سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 81
سيرة النبي علي 81 جلد 2 تھی اور جس کلام کو ہر قسم کے نقص سے محفوظ رکھنا اس کا فرض تھا۔یہ نام جبرائیل کے لئے اسی فیضان کی وجہ سے ہے جو رسول کریم ﷺ پر پڑا۔گو یا جبرائیل رسول کریم صلى الله صلى الله کا منون احسان ہے کہ آپ کے سبب اسے ایک اور خطاب ملا۔غرض دوسرے انبیاء پر روح القدس کے رنگ میں جبرائیلی پر تو پڑا لیکن رسول کریم ﷺ پر روح الامین کے رنگ میں پر تو پڑا جس کا یہی کام نہیں کہ پاکیزگی پیدا کرے بلکہ یہ بھی ہے کہ پاکیزگی ہمیشہ کے لئے قائم بھی رکھی جائے۔روح الامین میں قدوسیت بھی آگئی اور اس کے ساتھ ہی ہمیشگی بھی پائی گئی اس لئے یہ نام روح القدس کی نسبت اعلیٰ ہے۔ملک افضل ہے یا انسان؟ اب میں اس سوال کا جواب دیتا ہوں کہ ملک افضل ہے یا انسان؟ کیونکہ پیچھے جو اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عیسی ، موسی ، رسول کریم ﷺ جبرائیلی پر تو سے الله اس درجہ کو پہنچے تو اس کے متعلق کسی کے دل میں خیال پیدا ہوسکتا ہے کہ وہ افضل ہوا جس نے ان پر پر تو ڈالا نہ کہ وہ جو اس کے پرتو سے اعلیٰ مقام پر پہنچے۔یا د رکھنا چاہئے کہ باوجود اس کے کہ حضرت عیسی ، حضرت موسی اور رسول کریم ہے پر جبرائیل کا پر تو پڑا یہ جبرائیل سے اعلیٰ ہیں اور اس کے کئی وجوہ ہیں۔(1) جبرائیل بے شک پر تو ڈالنے والا ہے مگر بطور واسطہ کے ورنہ اصل عکس ڈالنے والا خدا ہی ہے اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ سورج کا عکس شیشے پر پڑے اور اس سے کسی اور چیز پر پڑے۔جبرائیل خدا تعالیٰ سے نور اخذ کر کے آگے ڈالتا ہے نہ کہ اپنی ذات سے اور واسطہ کبھی اعلیٰ ہوتا ہے اور کبھی ادنی۔اعلیٰ کی مثال تو شیشے کی ہے جس پر سورج کا عکس پڑے۔شیشہ اس چیز سے اعلیٰ ہوگا جس پر اس کے واسطہ سے عکس پڑے گا۔اور ادنی کی مثال یہ ہے کہ بادشاہ چٹھی لکھ کر چپڑاسی کو دے