سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 80

سيرة النبي عمال رکھتا الله 80 جلد 2 پر عکس ڈالنے والے ایسے نہ تھے اس لئے وہ رسول کریم ﷺ سے کم درجہ پر رہے۔اگر ان پر بھی وہی عکس ڈالتا جس نے رسول کریم عے پر ڈالا تو وہ اسی درجہ کو حاصل کر لیتے الله جو رسول کریم ﷺ کو حاصل ہوا۔لیکن اب چونکہ ایک ہی عکس ڈالنے والا ہے اس لئے ان کے مدارج میں جو فرق ہے وہ ان کے اپنے اپنے قلب کی صفائی سے تعلق ہے۔کیونکہ ایک ہی چیز جب مختلف چیزوں پر برابر اثر ڈالے تو ان کے اپنے اپنے ظرف کے مطابق نتیجہ مرتب ہوگا۔جبکہ جن پر عکس پڑے ان کے اندرونے میں فرق ہو تو باوجود ایک شے کا ہی عکس پڑنے کے پھر بھی نتیجہ میں فرق ہو گا۔اور یہی رسول کریم ﷺ کی سب انبیاء پر فضیلت ہے کہ آپ کا سینہ سب سے اعلیٰ اور مصفی تھا اور اس پر جو عکس پڑا وہ سب سے بڑھ کر تھا۔اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ کبھی فیضان کی نوعیت کے لحاظ سے اس کے نام مختلف رکھ دیئے جاتے ہیں یوں وہ روح القدس کا ہی فیضان ہوتا ہے اور فیضان کی نوعیت قلب کی صفائی کے مطابق ہوتی ہے۔دیکھو! جب سورج کا عکس لینا ہو اور معلوم ہو کہ اس کے لئے شیشہ بہت بہتر ہے تو اسی پر لیں گے نہ کہ لوہے کے ٹکڑے پر لیں گے۔چونکہ رسول کریم ﷺ کا قلب بہترین قلب تھا اس لئے آپ پر فیضان کا جو عکس پڑا وہ چونکہ سب سے اعلیٰ اور بڑھ کر تھا اس لئے وہی قیامت تک رہے گا اور اس طرح فیضان کی نوعیت بدل گئی۔دیکھو! حضرت مسیح کو جبرائیل کے فیضان کی شکل کشف میں کبوتر کی دکھائی گئی لیکن رسول کریم ﷺ کے پاس یہ فیض آدمی کی شکل میں آیا جو بہت اعلیٰ اور اکمل فیضان تھا۔تو فیضان کی نوعیت کا بھی فرق ہوتا ہے اسی نوعیت کے فرق کی وجہ سے جبرائیل کے کئی نام ہیں۔روح القدس ، روح الامین وغیرہ۔روح القدس جبرائیل کا نام اُس کلام پاک کی وجہ سے ہے جو وہ نازل کرتا ہے اور روح الامین اس کا لقب اُس کلام پاک کے نازل کرنے کی وجہ سے ہے جس کی ہمیشہ اس نے حفاظت بھی کرنی الله