سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 79

سيرة النبي الله 79 جلد 2 رسول کریم علی اور نزول جبریل 66 حضرت مصلح موعود نے 28 ، 29 دسمبر 1920ء کو جلسہ سالانہ قادیان میں جو خطاب فرمایا وہ ملائکۃ اللہ کے نام سے شائع ہوا۔اس خطاب میں آپ نے رسول کریم ہے اور جبریل کے تعلق کے حوالہ سے لطیف انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔صلى الله اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جبرائیل کے نازل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنا عکس ڈالتا ہے تو جس قدر انسان ایسے ہوئے ہیں کہ ان پر جبرائیل کا عکس پڑتا تھا وہ سب ایک جیسے ہونے چاہئیں۔رسول کریم علیہ حضرت موسی ، حضرت عیسی ان سب کا ایک ہی درجہ ہونا چاہئے۔مگر یہ غلط ہے کیونکہ عکس مختلف ہوتے ہیں اور اس کے لئے یہی نہیں دیکھا جاتا کہ عکس کس کا ہے؟ بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ عکس کس پر پڑا ہے۔لوہے کی چادر پر سورج کا جو عکس پڑے گا وہ اور شان کا ہو گا اور شیشے پر جو عکس پڑے گا وہ اور شان کا۔بیشک جبرائیل ایک ہی تھا اور اس کا عکس بھی ایک ہی ہے مگر آگے جتنے جتنے قلب مصفی تھے اتنی ہی اس کی شکل اعلیٰ درجہ کی دکھائی دی۔یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ جبرائیل ایک ہی تھا آگے جن پر عکس پڑا وہ الگ الگ درجہ کے صلى الله تھے۔موسی موسی ہی تھا اور محمد ( ﷺ ) محمد ہی۔اور یہی وجہ ہے کہ رسول کریم علی سب انبیاء سے اعلیٰ رہے اور درجہ والے قرار پائے کہ ایک ہی نے سب نبیوں پر عکس ڈالا ورنہ اگر عکس ڈالنے والے الگ الگ ہوتے تو کہا جاتا کہ رسول کریم ﷺ پر عکس ڈالنے والا چونکہ اعلیٰ درجہ کا تھا اس لئے آپ کو اعلیٰ درجہ حاصل ہوا اور دوسرے انبیاء صلى الله