سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 77
سيرة النبي عمال 77 جلد 2 پر خدا تعالی کی تسبیح و تحمید کرو۔یہ ارشاد فرمانے کی وجہ یہی تھی کہ مومن کو علم کی چاشنی لگا دی جائے اور جس کو کسی چیز کی چاشنی لگ جائے وہ اس کو چھوڑتا نہیں۔پس چاند گرہن ایک نشان ہے جس سے سبق حاصل کرنے کی طرف شریعت نے متوجہ کیا ہے اور ادھر ان اوہام سے بچایا ہے جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہیں۔اور ساتھ ہی یہ سبق دیا ہے کہ ہاتھ میں آئی ہوئی چیز اگر جانے لگے تو اسے جانے نہ دو بلکہ خدا تعالیٰ کے حضور گر جاؤ اور اُس وقت تک نہ اٹھو جب تک اسے واپس نہ لے لو۔اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تک گرہن نہ ہے تسبیح اور تحمید میں لگے رہو۔لیکن معلوم ہوتا ہے آج کا گرہن بہت زیادہ دیر تک رہے گا اور نماز بھی پڑھنی ہے اور کئی لوگ کمزور اور بیمار ہیں جو بہت زیادہ دیر کھڑے نہیں ہو سکتے اس لئے اتنا وقت نماز کے لئے رکھا ہے۔لیکن جن کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ نماز کے بعد بھی تسبیح و تحمید کریں اور اس احساس کو پیدا کریں جو رسول کریم علی نے ایسے موقع پر مومن کے دل میں پیدا کرنا چاہا ہے۔“ (الفضل 4 نومبر 1920ء) 1: بخارى ابواب الكسوف باب الصلواة في كسوف الشمس صفحہ 167 حدیث نمبر 1043 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية