سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 52
سيرة النبي عالم 52 جلد 2 ہے کہ اس پر ایمان لائے اگر وہ خدا کی رضا حاصل کرنا چاہتا ہے۔اس پر سوال ہوتا ہے کہ کس طرح معلوم ہو کہ اس کے ماننے سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے؟ فرماتا ہے اس کے تین ثبوت ہیں اَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهِ كِتُبُ مُوسَى اِمَامًا وَرَحْمَةً تین زمانے ہوتے ہیں۔ایک ماضی ، دوسرا حال ، تیسرا مستقبل۔یہ تینوں زمانے شہادت دے رہے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ خدا کی طرف سے ہے۔پس جس کی صداقت کے لئے زمانہ ماضی ، زمانہ حال اور زمانہ مستقبل پکار رہا ہو اس کا کون عقلمند انکار کر سکتا ہے۔زمانہ حال کی شہادت فرماتا ہے سب سے پہلے زمانہ حال کے لوگ ہوتے ہیں کہ وہی ایمان لانے والے ہوتے ہیں اس کے متعلق فرماتا ہے اَفَمَنْ كَانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهِ کہ اس زمانہ میں ایسے ثبوت موجود ہیں جو اس رسول کی صداقت ظاہر کر رہے ہیں۔یہاں تو مختصر طور پر فرما دیا اور دوسری جگہ اس کی یوں تفصیل کی ہے کہ دیکھو! خدا اس کی تائید کر رہا اور اسے دشمنوں پر غلبہ دے رہا ہے جس سے ظاہر ہے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔زمانہ مستقبل کی شہادت پھر آئندہ زمانہ کے متعلق فرمایا يَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ کہ آئندہ زمانہ میں بھی خدا کی طرف سے ایک ایسا گواہ آئے گا جو اس کی صداقت کو ثابت کرے گا اور اس کے سچے ہونے کی گواہی دے گا۔رسول کریم عملے کے وقت کے جو لوگ تھے ان پر آپ کے نشان حجت تھے۔مگر سوال ہوسکتا تھا کہ جو بعد میں آئیں گے ان کے لئے کون سے نشان حجت ہوں گے؟ اس لئے فرمایا ایک ایسا شاہد آئے گا جو اپنے آنے کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ثابت کرے گا اور اس رسول کی سچائی کی گواہی دے گا۔تو اس آیت میں فرمایا کہ زمانہ حال کے لئے تو اس کے نشان حجت ہیں اور زمانہ مستقبل کے لئے ایک اور شخص مبعوث کیا جائے گا جو اس وقت دنیا پر اس کی