سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 38
سيرة النبي الله 38 جلد 2 طرح لڑوں گا۔میرے ساتھ اگر بہادر سپاہی ہوتے تو میں لڑسکتا اب کیا کروں گا۔میں ابھی اس خیال میں تھا کہ ایک لڑکے نے مجھے کہنی ماری اور جب میں اس کی طرف صلى الله متوجہ ہوا تو اس نے پوچھا ابو جہل کہاں ہے جو رسول کریم ﷺ کو بہت دکھ دیا کرتا ہے۔میں ابھی اس کو جواب نہیں دینے پایا تھا کہ دوسرے نے آہستہ سے پوچھا تا دوسرا نہ سن لے چا! ابو جہل کون سا ہے؟ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس کو ماروں۔یہ صحابی عبد الرحمن بن عوف تھے جو بڑے بہادر اور جری تھے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ خیال میرے دل میں بھی نہ تھا کہ میں ابو جہل کو ماروں۔مگر میں نے ابھی ابو جہل کی طرف اشارہ ہی کیا تھا کہ دونوں لڑکے میرے دائیں اور بائیں سے چیل کی طرح جھپٹے اور دشمن کے لشکر میں گھس کر ابو جہل کو جا ما را 11۔دیکھو یہ پندرہ پندرہ برس کے لڑکے تھے۔اس نور کے بغیر جو ان کو حاصل تھا اس عمر کے لڑکے کیا کرتے ہیں؟ یہی کہ شہر کے لڑکے انگریزی کھیلیں کھیلتے ہیں اور گاؤں کے لڑکے دیہاتی کھیلیں۔مگر وہ اپنی جان کی کھیل کھیلتے ہیں اور ایسی بہادری سے کھیلتے ہیں کہ بڑے بڑے بہادر حیران ہو جاتے ہیں۔یہ نظارہ ایک عقلمند اور سمجھدار انسان کو بہت بڑے نتیجہ پر پہنچاتا ہے اور وہ یہ کہ محمد یہ سب انبیاء وہ سے افضل تھے اور کوئی آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔پھر قرآن بھی یہی کہتا ہے اور خود رسول کریم بھی یہی فرماتے ہیں کہ میں سب انسانوں کا سردار ہوں۔جب ہم اس نتیجہ پر پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ جو نبی سب سے افضل ہے وہی سب سے خدا کا پیارا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ رسول اللہ سے پیار اور محبت کے متعلق فرماتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ 12 محمد تو ہمارا ایسا محبوب ہے کہ جو اس کی فرمانبرداری کرے وہ بھی ہمارا محبوب ہو جاتا ہے۔“ 1: فاطر: 25 ( صداقت احمدیت صفحه 1 تا 13 مطبوعہ قادیان بارثانی) 2 متی باب 7 آیت 16 برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور مطبوعہ 1922ء