سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 486

سيرة النبي عالم 486 جلد 2 سکتا کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ ایک الہی سلسلہ ہو اور اس کے اکثر افراد گندے ہوں۔اگر اکثر افراد گندے ہیں تو وہ سلسلہ جھوٹا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ پر اعتراض پڑتا ہے کہ اس نے ایک گندے شخص کو اپنے سلسلہ کی باگ سپرد کر دی اور یہ الْحَمْدُ لِلہ کے بالکل خلاف بات ہے۔پس جمعہ کے خطبہ میں یہی بتایا گیا ہے کہ تم خود یہ مظاہرہ کرتے ہو کہ ہم ایک ہیں مگر کیا تمہارے دل بھی یہ گواہی دیتے ہیں کہ تم ایک ہو۔اگر تم ایک دوسرے کی عیب چینی کرتے ہو، اگر جماعت کے لوگوں کو گندا سمجھتے ہو تو پھر تم اکٹھے بیٹھنے سے ایک نہیں ہو سکتے۔کیا اگر میں اور مولوی ثناء اللہ صاحب ایک جگہ اکٹھے بیٹھے ہوں تو ایک ہو جائیں گے؟ ایک ہونے کے لئے دلوں کا اتحاد ضروری ہے۔صلى الله پس رسول کریم ﷺ نے یہ خطبہ بتایا ہے جس میں ایک آیت بھی لی ہے اور بتایا ہے کہ ظاہری اجتماع کے ساتھ دل بھی اکٹھے ہونے چاہئیں، دوسروں کی عیب چینی چھوڑ دینی چاہئے ، دوسروں پر اتکال چھوڑ دینا چاہئے۔اس طرح بھی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔جب کوئی شخص سمجھتا ہے کہ فلاں نے میرا کام کرنا تھا اور جب وہ نہیں کرتا تو ناراض ہو جاتا ہے۔اگر وہ یہ سمجھتا کہ خدا تعالیٰ نے ہی میرا کام کرنا ہے تو کسی کے متعلق اسے ناراضگی نہ پیدا ہوتی۔عام طور پر لڑائی دو طرح سے ہی ہوتی ہے۔ایک تو یہ کہ فلاں میں یہ عیب ہے دوسرے اس طرح کہ فلاں نے میری مدد نہیں کی۔اس خطبہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر تم یہ سمجھو کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور وہی عیبوں سے پاک ہے اور وہی انسان کو امداد دے سکتا ہے تو پھر لڑائی جھگڑے نہ ہوں۔غرض یہ خطبہ جو نہایت وسیع مطالب اپنے اندر رکھتا ہے ان کو مدنظر رکھنا چاہئے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت کے لوگوں کو تو فیق عطا کرے کہ ان کے دل ایک ہوں۔ان کا ظاہری اجتماع کا مظاہرہ نفاق کی حرکت نہ ہو بلکہ حقیقت میں وہ ایسی رستی میں بندھے ہوئے ہوں جسے کاٹنے کی کسی بڑے سے بڑے اور