سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 482

سيرة النبي ع 482 جلد 2 طرح ہم میں بھی ہیں پھر کسی کی عیب چینی کیوں کریں۔حضرت مسیح نے کیا سچ فرمایا ہے دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آ جاتا ہے مگر اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا 1 یہی حال عیب چین کا ہوتا ہے اسے اپنا کوئی عیب نظر نہیں آتا مگر دوسروں کے عیب نظر آتے ہیں۔اور نہ صرف عیب نظر آتے بلکہ خواہ مخواہ دوسروں کی طرف عیب منسوب کرنے لگ جاتا ہے اور ہر بات میں عیب نکالتا ہے۔کسی کو کچھ کھاتے دیکھا تو کہہ دیا اس نے چوری کی ہو گی۔اگر کسی نے غلطی سے کوئی بات کہہ دی تو کہہ دیا اس نے جھوٹ بولا ہے غرض اس میں عیب چینی کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے۔اس کے متعلق ہدایت یہ ہے کہ انسان سمجھے بے عیب خدا ہی ہے انسانوں میں کمزوریاں ہوتی ہیں مجھ میں بھی ہیں اس لئے مجھے کسی اور کی عیب چینی نہیں کرنی چاہیئے۔پھر شرک اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ انسان دوسروں پر بھروسہ رکھتا ہے اور ان سے مدد کا طالب ہوتا ہے۔اس کے متعلق ہدایت یہ ہے کہ وہ سمجھے خدا ہی مدد دے سکتا ہے اس کے سوا اور کوئی مدد نہیں دے سکتا۔نَسْتَعِيْنُه اس سے ہی مدد مانگتے ہیں۔اسی طرح خدا تعالیٰ ہی کی ہدایت سے انسان بخشش پا سکتا ہے ورنہ ایسے ایسے مخفی گڑھے ہوتے ہیں کہ انسان ان میں گر جائے تو کبھی نکل نہ سکے اس لئے فرمایا نَسْتَغْفِرُهُ خدا ہی سے بخشش مانگتے ہیں۔پھر اللہ ہی کے فضل سے ایمان نصیب ہوسکتا ہے۔اگر خدا کی طرف سے وحی نہ آئے تو کیا انسان ہدایت پاسکتا ہے؟ اس کے متعلق فرمایا نُؤْمِنُ به هم خدا پر ایمان لاتے ہیں۔پھر تو کل بھی خدا ہی کی طرف سے حاصل ہوتا ہے۔بندہ تو اتنا کمزور ہے کہ وہ اپنا سہارا آپ نہیں لے سکتا۔خدا ہی سہارا دیتا ہے تب وہ قائم رہ سکتا ہے۔اس لئے فرمایا وَ نَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ ہم خدا تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔جن لوگوں کو اتنی باتیں حاصل ہو جاتی ہیں پھر انہیں کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں زبردستی ہدایت دیتا ہے بلکہ یہ ہے کہ جن کو یہ پانچوں باتیں یعنی ،حمد، استعانت استغفار، ایمان اور توکل حاصل ہو جاتا ہے ان کو کوئی گمراہ