سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 481
سيرة النبي ع 481 جلد 2 موجود ہوں۔اگر کوئی پاس ہی نہ ہو تو اتکال کہاں سے پیدا ہوگا۔تو ہمیشہ ملاقات کے نتیجہ میں انسان میں شرک بھی پیدا ہوتا ہے اور نَسْتَعِینہ میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔پھر عیب جوئی کے بعد انسان خود گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے اور گناہ بھی اشتراک اور اجتماع میں ہی ہوتا ہے۔گناہ کیا ہے؟ یہی کہ کسی کا حق لینا اور کسی کا حق نہ دینا اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب دوسرے لوگوں کے ساتھ انسان ملے، ان کے اجتماع میں رہے۔پھر گناہ کے نتیجہ میں انسان کا تعلق خدا تعالیٰ سے ٹوٹتا ہے۔جتنا کوئی گناہوں میں مبتلا ہوتا جاتا ہے اتنا ہی خدا سے دور ہوتا جاتا ہے۔ایک وقت تو انسان بندوں کی عیب چینی کرتا ہے مگر بعض دفعہ بندوں کو ہی خدا سمجھ کر ان سے ہی مدد مانگنے لگتا ہے۔اس کا سہارا خدا تعالیٰ پر نہیں رہتا۔ان تمام باتوں سے بچنے کے لئے وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ میں اشارہ ہے۔پھر انسان کے نفس کے اندر ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ گناہوں کا ارتکاب کرنے لگ جاتا ہے۔پہلے جو کچھ بیان کیا یہ تو افعال ہیں ان کے بعد بدی کی طرف میلان پیدا ہو جاتا ہے۔گناہ آپ ہی آپ سرزد ہوتے چلے جاتے ہیں یہ شرورنفس کہلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے نفس کو پاک بنایا ہے۔قرآن کریم میں خدا تعالی نے متعدد بار بیان فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے نفس کو پاک بنایا۔پس چونکہ انسان کا نفس بالکل پاک ہوتا ہے اس لئے شروع میں بدی اس میں باہر سے آتی ہے پھر آہستہ آہستہ بدی کی عادت پڑ جاتی ہے اس کے بعد بدی نفس سے پیدا ہونے لگ جاتی ہے۔ان تمام باتوں کا علاج اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے ہی ہوسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے جو لوگ تعلق پیدا کر لیتے ہیں انہیں یہ ساری باتیں نظر آنے لگ جاتی ہیں۔وہ سمجھتے ہیں اَلْحَمْدُ لِله بے عیب ذات خدا تعالیٰ ہی کی ہے۔جس طرح کسی اور میں عیب ہیں اسی