سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 480

سيرة النبي ع 480 جلد 2 مارتا ہے میرے کاموں میں میری تدابیر کو کوئی دخل نہیں ہے یہ حقیقی تو کل ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مومن کام چھوڑ دیتا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے تو پوری کوشش کرتا ہے مگر اپنی کوششوں کو کامیابی کا ذریعہ نہیں سمجھتا۔وہ یقین کرتا ہے کہ مجھے جو تدبیر کے لئے کہا گیا ہے یہ میرا امتحان ہے اور آزمائش ہے تا کہ دیکھا جائے کہ میں تدبیر کے ساتھ حقیقت کو تو نہیں بھول جاتا جیسے بچہ حقیقت کو بھول جاتا ہے۔بچہ کو ماں اپ یا کوئی اور رشتہ دار جب گردن پر اٹھا کر کہتے ہیں کہ تو اونچا ہو گیا تو بچہ چونکہ نادان ہوتا ہے اس لئے سمجھنے لگ جاتا ہے کہ فی الواقعہ وہ اونچا ہو گیا ہے۔اس کی شکل ، اس کی بات چیت اور اس کی مسرت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اونچا یقین کر رہا ہے۔بعینہ اسی طرح انسان کے اعمال کی حقیقت ہوتی ہے مگر وہ اعمال نہیں جو گرانے والے ہوتے ہیں۔دیکھو بچہ کو ماں باپ اونچا تو کرتے ہیں لیکن یہ نہیں کہ اس کا قد چھوٹا بھی کر دیں۔پس اس مثال سے کوئی یہ نہ سمجھے برے افعال بھی اسی طرح ہوتے ہیں۔اعمال بد کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ٹھوکریں کھانا۔اور ٹھوکریں کھانے کے لئے مدد کی ضرورت نہیں ہوا کرتی ضرورت بلند ہونے کے لئے ہوتی ہے۔پس تو کل کا یہ مقام ہے کہ تدابیر کچھ نہیں کرسکتیں جو کچھ کرتا ہے خدا ہی کرتا ہے۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ یہ باتیں جو اس خطبہ میں بیان کی گئی ہیں یہ اتحاد جماعت کے ساتھ کس طرح تعلق رکھتی ہیں۔جس قدر اعتراض اور جھگڑے کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ ملنے اور ایک جگہ جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہیں۔اگر ایک آدمی الگ کوٹھڑی میں بیٹھا رہے تو اس نے کس سے لڑنا ہے۔ایک دوسرے سے ملنے پر عیب چینی کی جاتی ہے، لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اور جس طرح عیب گیری اور ظلم و فساد ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے پیدا ہوتے ہیں اسی طرح شرک بھی ملنے سے پیدا ہوتا ہے۔دوسروں پر اتکال انسان اُسی وقت کر سکتا ہے جبکہ دوسرے اس کے سامنے