سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 479

سيرة النبي علي 479 جلد 2 رسول کریم ﷺ کا متواتر پڑھنا بتاتا ہے کہ وہ جمعہ کے ساتھ خاص خصوصیت رکھتا ہے ورنہ ہر جمعہ میں اس کو دہرانے کی کیا ضرورت تھی۔ایک حصہ خطبہ جمعہ کا تو ایسا ہے جو بدلتا رہتا ہے مگر ایک وہ ہے جو رسول کریم ﷺ کی سنت اور طریق ہے کہ اسے آپ بار بار دہراتے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرور اس حصہ خطبہ کا جمعہ کے ساتھ خاص تعلق ہے۔اور آج میں اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں کیونکہ بوجہ عربی میں اس خطبہ کے ہونے کے شاید بہت سے لوگ اس کے مضامین اور مطالب سے غافل ہوں۔اس حصہ خطبہ کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ ہم اقرار کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں، اس سے مدد مانگتے ہیں، اس سے اپنی غلطیوں پر چشم پوشی کی استدعا کرتے ہیں، اس کے وعدہ، اس کی نصرت، اس کی مدد، اس کی استعانت اور اس کی بخشش پر یقین رکھتے ہیں۔اور پھر وہ یقین اتنا ترقی کر جاتا ہے کہ ہم اپنے کاموں کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہو جاتے ہیں۔یا یہ کہو کہ حقیقی طور پر واقف ہو جاتے ہیں اور پورے طور پر سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے کاموں کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ہماری تمام تدابیر ایک مردہ چیز سے زیادہ نہیں بلکہ مردہ بھی نہ کہو وہ ہماری آزمائش کے لئے ہیں اور بالکل اسی طرح ہوتی ہیں جس طرح بعض سوار خصوصاً کشمیریوں کو میں نے دیکھا ہے کہ گھوڑے کو دوڑاتے ہوئے لاتیں مارتے جاتے ہیں۔وہ اس کا نام گھوڑے کے لئے کوڑا قرار دیتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ ان کو عادت ہو گئی ہے۔ہمارے ملک میں تو گھوڑے پر چڑھنے والے کسی کسی وقت جب گھوڑا است ہو لاتیں مارتے ہیں مگر کشمیر میں عادت ہو گئی ہے۔بچہ باپ کو دیکھتا چلا آ رہا ہے اور اس طرح یہ عادت ہی پڑ گئی ہے کہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر بلا ضرورت لاتیں بلاتے رہے ہیں۔اب اگر کوئی یہ خیال کرے کہ گھوڑا نہیں دوڑتا بلکہ سوار اپنی ٹانگوں کے ذریعے دوڑا رہا ہے تو یہ اس کی غلطی ہو گی۔اسی طرح مومن کا ایمان اتنی ترقی کر جاتا ہے کہ وہ سمجھ لیتا ہے میری کوششیں تو ایسی ہیں جیسے ایک کشمیری سوار لاتیں