سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 473

سيرة النبي عمال 473 جلد 2 بڑھ کر دیا۔سوائے اس کے جو اس کی سنت اور قضا کے مقابلہ میں آ کر ٹکرانے والا تھا ایسے موقع پر بے شک انکار کر دیا۔ورنہ ان سے یہ معاملہ ہوا کہ انہوں نے مانگے مسلم اور خدا تعالیٰ نے دیے نبی۔اب یہی بات رسول کریم علیہ کے متعلق سمجھو اور درود کے یہ معنی کرو کہ خدایا! جو معاملہ تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا وہی محمدعلی سے کرنا۔یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو مانگا اس سے بڑھ کر ان کو دیا اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے جو مانگا اس سے بڑھ کر دینا۔اب درجہ کے لحاظ سے فرق یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے عرفان کے مطابق اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں اور رسول کریم ﷺ نے اپنے عرفان کے مطابق کیونکہ جتنی جتنی معرفت ہوتی ہے اس کے مطابق مطالبہ کیا جاتا ہے۔ایک چھوٹا بچہ چیجی‘ مانگتا ہے لیکن جب ذرا بڑا ہوتا ہے تو مٹھائی مانگنے لگتا ہے۔جب جوان ہونے پر آتا ہے تو اچھے کپڑے طلب کرتا ہے۔جوان ہو کر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ماں باپ اس کی کسی اچھی جگہ شادی کریں۔پھر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اسے جائیداد کا حصہ دے دیا جائے۔غرض جوں جوں عرفان بڑھتا ہے مطالبہ بھی بڑھتا جاتا ہے۔اسی طرح جتنا کسی کا خدا تعالیٰ کے متعلق عرفان ہوتا ہے اسی کے مطابق وہ دعا کرتا ہے۔جب رسول کریم علیہ عرفان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑھے ہوئے تھے تو یقینی بات ہے کہ آپ کی دعائیں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں سے بڑھی ہوئی ہوں گی اور درود میں جو دعا مانگی جاتی ہے اس کا صحیح مطلب یہ ہوا۔الہی ! حضرت ابراہیم نے آپ سے جو مانگا الله صلى الله انہیں آپ نے اس سے بڑھ کر دیا اب محمد ﷺ نے جو مانگا انہیں بھی مانگنے سے بڑھ کر عطا کیجئے۔دوسرے لفظوں میں اس کے یہ معنی ہوئے کہ جو کچھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملا محمد اللہ کو اس سے بڑھ کر دیا جائے۔اور وہ چیز جس کے لئے حضرت ابرا ہیم سے بڑھ کر رسول کریم ﷺ کو دینے کی دعا کی گئی ہے یہی ہے کہ حضرت ابراہیم نے امت مسلمہ مانگی ان کی نسل میں نبوت قائم کر دی گئی۔رسول کریم ﷺ نے اپنی امت کے