سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 454

سيرة النبي عالم 454 جلد 2 مسلم آؤٹ لگ کا واقعہ حضرت مصلح موعود نے خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1927ء میں مسلم آؤٹ لگ کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔اسی دوران میں مسلم آؤٹ لگ“ کا واقعہ پیش آ گیا۔اس اخبار میں ایک ایسا مضمون شائع ہوا جس میں سختی سے ایک ہائی کورٹ کے ایک حج کے اس فیصلہ پر جو راج پال کے متعلق کیا گیا تھا جرح کی گئی تھی۔میں اُس وقت بھی حقیقی طور پر اس مضمون میں بعض غلطیاں محسوس کرتا تھا اور اب بھی محسوس کرتا ہوں مگر جس بنا پر ایڈیٹر اور پرنٹر مسلم آؤٹ لگ پر مقدمہ چلایا گیا وہ غلط تھی۔وہ مضمون اس وجہ سے لکھا گیا تھا کہ اس فیصلہ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کرنے والے ہر ایک شخص کو چھوڑا جا سکتا ہے اور مسلمانوں کے لئے امن کی کوئی صورت نہیں۔اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائی کورٹ کو دیکھنا چاہئے تھا کہ وہ مضمون کیسی حالت میں لکھا گیا اور آیا اس میں ہائی کورٹ کی ہتک مقصود ہے یا اپنے ٹھیس لگے ہوئے جذبات کا اظہار ہے۔پس گو میں تسلیم کرتا ہوں کہ اس مضمون کا لہجہ ایسا نہ تھا جیسا کہ ہونا چاہئے تھا مگر جس بنا پر مقدمہ چلایا گیا وہ درست نہ تھی۔چونکہ اس مضمون کی وجہ سے مسلم آؤٹ لگ کے پروپرائیٹر اور ایڈیٹر کو سزا دے دی گئی اس لئے مجھے مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلانی پڑی کہ جو کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتک کے خلاف آواز اٹھائے وہ تو فوراً جیل خانہ بھیجا جا سکتا ہے اور ہتک کرنے والا ہر قسم کی سزا سے محفوظ رہ سکتا ہے۔