سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 447

سيرة النبي عمال 447 جلد 2 قومی غداری ہے۔باقی یہ کہنا کہ ان مقدمات میں سزا سخت دی گئی ہے اگر جرم ثابت ہے تو پھر سزا سخت نہیں۔میرے خیال میں اس سے بھی سخت ہونی چاہئے تھی۔کوئی وجہ نہیں کہ بغیر اشتعال اور بغیر خود حفاظتی کے کسی کو قتل کیا جائے۔یہ بہت بڑا ظالمانہ فعل ہے۔کسی نے مجھ سے کہا ان مجرموں کو بہت سخت سزا دی گئی ہے۔میں نے کہا ذرا اپنے او پر قیاس کر لو۔اگر تمہارے کسی آدمی پرحملہ ہو تو تم حملہ آور کے لئے کیسی سزا چاہو گے۔غرض جب تک جرم ثابت نہ ہو ملزموں کی مدد کرنا قومی فرائض میں سے ہے نہ کہ قومی رعایت۔ہاں جب جرم ثابت ہو جائے تو مدد کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ہمارا نقطہ خیال یہ ہے کہ ان لوگوں کا جرم شروع میں ثابت نہ تھا۔اُس وقت ان کو مسلمانوں کی طرف سے قانونی مددملنی چاہئے تھی۔اگر انہوں نے خود کسی کو وکیل کھڑا نہیں کیا تو یہ ان کا کام تھا لیکن اگر انہوں نے وکیل کھڑا کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے ان کا مقدمہ لینا منظور نہ کیا تو انکار کرنے والوں نے قومی غداری کی۔اور سزا کے متعلق ہماری یہ رائے ہے کہ جہاں ایسے جرم ثابت ہو جائیں وہاں ضرور سخت سزا دینی چاہئے تا کہ دوسروں کے لئے عبرت کا موجب ہو اور نادان لوگ قوم کو بدنام نہ کریں۔اس میں اسلام اور مسلمانوں ہی کا فائدہ ہے کہ دوسرے سخت سزاؤں سے ڈر کر اس قسم کے افعال کے مرتکب نہ ہوں گے اور مسلمانوں کے لئے بدنامی کے سامان نہ پیدا کریں گے۔ہمیں جو کچھ کہنا چاہئے وہ یہ ہے کہ وہ مجرم تھے یا نہیں۔ہمیں اس کے لئے اپیل یا دوسرے طریقوں سے کوشش کرنی چاہئے۔لیکن جب جرم ثابت ہو جائے خواہ شریعت کے قانون کی رو سے یا گورنمنٹ کے قانون کے ماتحت تو اس صورت میں سزا کو سخت نہیں کہیں گے۔ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ جرم ثابت نہیں پھر سزا کیوں دی گئی لیکن جب جرم ثابت ہو جیسا کہ میرے نزدیک یہاں ثابت ہے ( میں یہ نہیں کہتا کسی اور کے نزدیک بھی ثابت ہے یا نہیں ) تو پھر ضروری ہے کہ سزا سخت ہو بلکہ ایسے لوگوں نے چونکہ اسلام کو بدنام کیا ہے اس لئے ہماری خواہش ہے کہ اور بھی سخت ہو۔ان لوگوں