سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 429

سيرة النبي الله 429 جلد 2 اس کے بعد 1923ء میں میں سرمیکلیکن سابق گورنر پنجاب سے ملا اور انہیں اس قانون کے نقصوں کی طرف توجہ دلائی۔مگر باوجود اس کے کہ میں نے انہیں کہا تھا کہ آپ گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلائیں انہوں نے یہ معذرت کر دی کہ اس امر کا تعلق گورنمنٹ آف انڈیا سے ہے اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اس کے بعد میں نے پچھلے سال ہز ایکسیلنسی گورنر جنرل کو ایک طویل خط میں ہندوستان میں قیام امن کے متعلق تجاویز بتاتے ہوئے اس قانون کی طرف بھی توجہ دلائی لیکن افسوس کہ انہوں نے محض شکریہ تک ہی جواب کو محدود رکھا اور باوجود وعدہ کے کہ وہ ان تجاویز پر غور کریں گے غور نہیں کیا۔میرے اس خط کا انگریزی ترجمہ چھ ہزار کے قریب شائع کیا گیا ہے اور تمام حکام اعلیٰ، سیاسی لیڈروں، اخباروں، پارلیمنٹ کے ممبروں اور دوسرے سر بر آوردہ لوگوں کو جا چکا ہے اور کلکتہ کے مشہور اخبار ”بنگالی نے جو ایک متعصب اخبار ہے لکھا ہے کہ اس میں پیش کردہ بعض تجاویز پر ہندو مسلم سمجھوتے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔سر مائیکل اڈوائر اور ٹائمنز آف لندن کے مسٹر براؤن نے ان تجاویز کو نہایت ضروری تجاویز قرار دیا اور بہت سے ممبران پارلیمنٹ اور دوسرے سر بر آوردوں نے ان کی اہمیت کو تسلیم کیا۔لیکن افسوس کہ ان حکام نے جن کے ساتھ ان تجاویز کا تعلق تھا ان کی طرف پوری توجہ نہ کی۔جس کا نتیجہ وہ ہوا جو نظر آ رہا ہے۔ملک کا امن برباد ہو گیا اور فتنہ وفساد کی آگ بھڑک اٹھی۔یہ بتا چکنے کے بعد کہ بزرگانِ دین کی عزت کی حفاظت کے متعلق میں شروع سے ہی کوشش کرتا چلا آیا ہوں اب میں یہ بتاتا ہوں کہ موجودہ قانون میں کیا کیا نقص ہیں۔(1) موجودہ قانون صرف اس شخص کو مجرم قرار دیتا ہے جو بہ نیت فتنہ کوئی مضمون لکھے، براہ راست انبیاء کی ہتک کو مُجرم نہیں قرار دیتا۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا کہ راجپال کے مقدمہ کی طرح ہمیشہ ہی عدالتوں میں یہ بحث رہے گی کہ کسی