سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 420

سيرة النبي ع 420 جلد 2 جائے تو اس قوم کے لیڈر ذمہ دار ہوں گے کہ وہ ایک مقررہ رقم بطور تاوان کے دیں۔کوئی کہے نبیوں اور بزرگوں کی ہتک کا ازالہ تاوان سے کس طرح ہوسکتا ہے خواہ کوئی لا کھ روپیہ دے دے۔یہ صحیح ہے مگر ہم ایسے روپیہ سے رسول کریم ﷺ کی زندگی کے صحیح حالات شائع کریں گے اور اس طرح ان اعتراضات کا ازالہ کریں گے۔دوسری شرط یہ ہے کہ ہندو مسلمانوں سے چھوت چھات چھوڑ دیں یا اسے صلح میں نہ سمجھیں۔تیسری شرط یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے حقوق آبادی کے لحاظ سے حاصل ہوں اور ہندو ان میں روک نہ بنیں بلکہ مددگار ہوں۔اگر یہ تین شرطیں ہندوؤں کو منظور ہوں تو ہم سب سے پہلے صلح کے لئے تیار ہیں۔مگر صلح وہی کریں گے جس کے نتیجے میں قوم ذلیل نہ ہو۔مسلمان چوڑھے چمار نہ بنیں۔ہم نے فیصلہ کیا ہے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہم پر یہ ذمہ داری ہے کہ ہم جو ہندوستان میں پیدا ہوئے یا باہر سے یہاں آئے اسلام کے جھنڈے کو کھڑا کریں اور اس کے لئے قوم کو زندہ رکھنا ہمارا فرض ہے۔ورنہ اگر مسلمان چوڑھے چماروں کی طرح ہو جائیں تو پھر اسلام کا جھنڈا کون کھڑا کرے گا۔پس آج یا کل یہ سوال اٹھے گا کہ ہند و مسلمانوں میں صلح ہو اس لئے پہلے ہی یہ باتیں میں پیش کرتا ہوں۔اگر ہند و صاحبان انہیں مان لیں تو آج صلح ہو سکتی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہندو لیڈر بجائے مسلمانوں کو گالیاں دینے کے اور ہتک آمیز الفاظ استعمال کرنے کے اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال دلانے کے ان تجویزوں پر غور کریں گے جو خاص ہمدردی اور محبت سے پیش کی گئی ہیں۔اور اس کے لئے جسے مادر ہند کہتے ہیں اور جس کی ترقی کے لئے جان و مال قربان کر دینے کا دعویٰ رکھتے ہیں اگر واقعہ میں ہندوستان کا دردان کے دل میں ہے اور وہ سچے دل سے ہندوستان کی ترقی چاہتے ہیں تو آئیں ان باتوں پر غور کریں اور ان کے مطابق صلح کریں۔“ (الفضل 30 اگست 1927ء)