سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 419
سيرة النبي علي 419 جلد 2 جائے۔اس وقت جب کہ دوسری قومیں اپنے حقوق کا پُر زور مطالبہ کر رہی ہیں چوڑھے چماروں کو اگر اپنے پاس بیٹھنے کے لئے بھی کہا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم دور ہی اچھے ہیں یہ ہزاروں سال کے بائیکاٹ اور چھوت چھات کی وجہ سے ہے کہ یہ لوگ عزت نفس سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔اگر آج اس بات کا فیصلہ نہ کیا گیا تو مسلمانوں کو بھی اسی ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں گرنا پڑے گا جس میں چوڑھے اور سانسی گرے ہوئے ہیں۔اگر مسلمان آنکھیں کھول کر دیکھیں تو اب بھی انہیں معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ کس حالت کو پہنچ چکے ہیں۔آج سے ایک سو سال پہلے وہ ہندوستان کے بادشاہ تھے اور بادشاہوں کے پاس مال و دولت محکوم کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے۔مگر آج ہر جگہ مسلمان ہندوؤں کے دست نگر ہیں جس کی وجہ سوائے چھوت چھات کے اور کچھ نہیں۔پس اگر سو سال کے اندر اندر بادشاہ قوم کی یہ حالت ہو سکتی ہے کہ وہ قریباً غلاموں کی طرح زندگی بسر کر رہی ہے تو سوسال کے بعد اس کی حالت چوڑھوں اور چماروں سے بھی بدتر ہو جائے گی۔چوڑھوں نے تو ہندوؤں کی کچھ باتیں اختیار کر لی ہیں اس لئے ہندو ان پر رحم کرتے ہیں مگر مسلمانوں پر قطعاً رحم نہ کریں گے۔پس ہماری صلح کی شرائط میں سے ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ ہمارے حقوق جو گورنمنٹ نے دیئے یا آئندہ دے وہ ہماری آبادی اور اہمیت کے لحاظ سے دیئے جائیں اور ہندو ان میں روک نہ بنیں۔اگر مسلمانوں کو وہ حقوق نہ ملے تو نتیجہ یہ ہوگا که مسلمان روز بروز گرتے جائیں گے۔صلح کے یہ معنی نہیں کہ مسلمان ذلت اور نکبت کے گڑھے میں گر جائیں اور اپنے حقوق چھوڑ دیں بلکہ یہ ہیں کہ مسلمان بھی زندہ رہیں اور معزز طور پر زندہ رہیں۔پس ہماری یہ تین شرطیں ہوں گی جن پر ہم صلح کر سکتے ہیں۔(1) ہر قوم پر ذمہ داری ہو گی کہ اگر کوئی شخص پہلی شرط کی خلاف ورزی کرے گا تو قوم اس کا بائیکاٹ کرے گی اور جو نہ کریں گے ان کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا۔اگر یہ نہ کیا