سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 418
سيرة النبي عل الله 418 جلد 2 علی الاعلان مسلمانوں کے ساتھ کھائیں اور آئندہ کے لئے اقرار کریں کہ مسلمانوں سے چھوت چھات نہیں کریں گے۔لیکن اگر یہ نہیں کر سکتے تو پھر اس مسئلہ کو صلح کی شرائط میں ہی نہ رکھیں۔جس طرح ہندو ہم سے چھوت چھات کرتے ہیں اور ہم کوئی اعتراض نہیں کرتے اسی طرح ہمارے چھوت چھات کرنے پر وہ کوئی اعتراض نہ صلح کی تیسری شرط ایک اور ہے۔چونکہ ہماری قوم چھوت چھات کی وجہ سے گرتی جارہی ہے اور ذلت برداشت کر رہی ہے اس لئے ہمیں ضرورت ہے کہ اس ذلت کو دور کرنے کے لئے کوئی طریق اختیار کریں۔یہ جو چوڑھے چمار یا اور ا چھوت اقوام کے لوگ نظر آتے ہیں، گاؤں کے پاس علیحدہ جھونپڑیوں میں رہتے اور خود بھی اپنے آپ کو ادنی اور ذلیل سمجھتے ہیں ایک وقت تھا ہندوستان کی بادشاہت ان کے قبضہ میں تھی۔یہاں کے حکمران تھے۔مال دولت ان کی ملکیت تھی۔لیکن جب آریہ ہندوستان میں آئے اور یہاں کے لوگوں کو شکست دے کر ان پر غالب آ گئے تو ان سے چھوت چھات شروع کر دی۔یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ چند ہزار سال کے بعد ان لوگوں کی حالت ایسی ذلیل ہو گئی جو نظر آ رہی ہے۔یہ لوگ کیوں شہروں سے باہر پنڈوروں میں رہتے ہیں؟ اس لئے کہ چھوت چھات انہیں باہر رہنے پر مجبور کرتی ہے۔اگر مسلمانوں کے متعلق بھی ہندوؤں کا یہ رویہ اسی طرح جاری رہا تو ایک دن مسلمان بھی اس حالت پر پہنچ جائیں گے جو چوڑھے چماروں کی ہے۔اب چوڑھوں سے کہ کر دیکھ لو کہ آؤ ہماری مجلس میں بیٹھو تو وہ کہیں گے نہیں جی ہم دور ہی اچھے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہزاروں سال کے سلوک سے ان کے نفس بالکل مر گئے ہیں۔ابھی چند دن ہوئے ایک دوست نے سنایا جب شو د رانند صاحب یہاں آئے اور انہوں نے تقریر کی تو چونکہ چوڑھوں کے متعلق تھی اس لئے ایک چوڑھے کے آنے پر اس کو کہا گیا آگے آکر بیٹھو! مگر جوں جوں اسے آگے آنے کے لئے کہا جائے وہ اور