سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 417
سيرة النبي علي 417 جلد 2 کتاب لکھے گا تو اس کی قوم ذمہ دار ہو گی کہ اس کتاب کو جلا دے اور لکھنے والے کا بائیکاٹ کر دے اور لوگ اس سے تعلق نہ رکھیں۔نہ بیاہ شادیوں میں بلائیں، نہ موت فوت میں شامل کریں ، نہ رشتہ لیں نہ دیں۔میں اپنی جماعت کی طرف سے اس قسم کا معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہوں کہ اگر کوئی احمدی ایسی کتاب لکھے تو ہم اس کا بالکل بائیکاٹ کر دیں گے۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ رسول کریم ﷺ اور دوسرے بزرگوں کی عزت کی حفاظت کے لئے مسلمانوں کا کوئی فرقہ بھی ایسا نہ ہو گا جو اس معاہدہ کے لئے تیار نہ ہو۔اور جب قوم کی قوم ایسا معاہدہ کرے پھر کوئی جرات نہیں کر سکتا کہ ایسی کتاب لکھے۔پس صرف اس قسم کے الفاظ کہ مادر ہند کو اتحاد کی ضرورت ہے ہمیں آپس میں رواداری سے رہنا چاہئے ، ایک دوسرے سے اچھا سلوک کرنا چاہئے ہمارے لئے کافی نہیں بلکہ ہمارے پاس کوئی ایسی بات ہونی چاہئے کہ جو فتنہ اٹھائے اسے مناسب سزا دی جا سکے۔اگر ہندو اس بات کا اقرار کریں کہ ایسے شخص کا بائیکاٹ کر دیا جائے گا اور جو اس سے کسی قسم کا تعلق رکھے گا یا ہمدردی کرے گا اس کا بھی بائیکاٹ کر دیا جائے گا تو اس صورت میں بیشک صلح کی ایک شرط پوری ہو جاتی ہے۔مگر اس کے علاوہ اور بھی شرطیں ہیں۔مثلاً یہ کہ ہندوؤں نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے چھوت چھات سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔وہ جاہل لوگوں سے کہتے ہیں دیکھو! ہم مسلمانوں سے چھوت چھات کرتے ہیں کیونکہ ہم ان سے معزز ہیں اور مسلمان ہماری چیزوں سے پر ہیز نہیں کرتے اس لئے کہ وہ ادنی ہیں۔سات سو سال سے ہند و مسلمانوں سے یہ سلوک کرتے آئے ہیں جس کی مسلمانوں نے پرواہ نہ کی۔مگر اب چونکہ اس بات کو مذہبی رنگ میں استعمال کیا گیا ہے اس لئے اب ہم اس سلوک پر راضی نہیں ہو سکتے۔ہو سکتا ہے کہ ہندو ہمیں علیحدہ طور پر کہہ دیں کہ ہم تم سے چھوت چھات نہیں کریں گے۔مگر ہم اس پر راضی نہ ہوں گے اور نہ اس پر راضی ہوں گے کہ کوئی ہند و کسی مسلمان کے ساتھ بیٹھ کر کھا پی لے بلکہ ہند و۔