سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 416

سيرة النبي علي 416 جلد 2 دلایا ہے کہ جلسے میں قطعاً کسی پر حملہ نہ کیا جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور اپنا مضمون لکھ کر بھیج دیا جس میں کوئی حملہ نہ تھا بلکہ اس میں لکھا تھا کہ ہم ہندو بزرگوں کی عزت کرتے ہیں۔مگر باوجود وعدہ کرنے کے جسے کوئی شریف انسان تو ڑا نہیں کرتا اور دو بار خود زبان دینے کے جسے کوئی شریف انسان واپس نہیں لیا کرتا آریوں نے سینکڑوں آدمیوں کے سامنے رسول کریم ﷺ کے متعلق (نعوذ باللہ ) صلى الله ڈاکو اور فاسق کے ناپاک الفاظ استعمال کئے۔یہ وہ شرافت تھی جو آریوں نے اس مضمون کے مقابلے میں اختیار کی جو حضرت صاحب نے ان کے جلسے میں پڑھنے کے لئے بھیجا تھا اور جس میں ان کے بزرگوں کی تعظیم و تکریم کا ذکر تھا۔غرض ہم شروع سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ اس قوم کی بد زبانی کی عادت چلی آتی ہے اور اس پر وہ اپنی نجات کا انحصار جھتی ہے۔پس جس قوم کی ساری ہسٹری گالیوں سے بھری ہوئی ہو، جس نے سب مذاہب کے بزرگوں کو گالیاں دی ہوں ، جس نے اپنی قوم کے بزرگوں کو بھی گالیاں دینے سے نہ چھوڑا ہو اس کے صرف منہ سے کہہ دینے سے کہ وہ صلح کرتی ہے ہم کس طرح صلح کے لئے تیار ہو سکتے ہیں۔پس میرے نزدیک صلح تو ضرور ہونی چاہئے مگر اس سے پہلے کچھ شرائط بھی ضروری ہیں۔کم از کم ہماری جماعت ان شرائکہ کی پابندی کرا لینا ضروری سمجھتی ہے۔اور میں امید کرتا ہوں دوسرے مسلمان بھی اس بات کو نظر انداز نہیں کریں گے کہ آریوں کا صرف منہ سے کہہ دینا کافی نہیں اس کے لئے کچھ شرائط کا ہونا ضروری ہے۔میرے نزدیک سب سے پہلی شرط جو ضروری ہے وہ یہ ہے کہ دونوں قوموں کی طرف سے اس بات کا اقرار ہونا چاہئے کہ کوئی کتاب ایسی نہ لکھی جائے گی جس میں دوسرے مذاہب کے بزرگوں کے متعلق دریدہ دہنی سے کام لیا جائے یا ایسے اعتراض کئے جائیں جن میں ان کی تخفیف و تذلیل ہو نہ کہ کسی مسئلہ کا حل۔اگر کوئی شخص ایسی