سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 415
سيرة النبي عالم 415 جلد 2 کہنا کہ براہین احمدیہ سے گالیوں کی ابتدا ہوئی جھوٹ ہے۔عیسائیوں کی گالیاں تو دوسو سال پہلے سے چلی آ رہی ہیں مگر اندر من وغیرہ کی گالیاں براہین احمدیہ کی اشاعت سے پہلے کی ہیں۔سب سے پہلے کی ہیں۔سب سے پہلی کتاب جو آریوں کے دفاع میں لکھی گئی براہین احمدیہ ہے اور وہ اس لئے لکھی گئی کہ آریہ گالیاں دیتے تھے اور اس میں کہا گیا کہ دوسروں پر گندے اعتراض نہ کرو بلکہ اپنے مذاہب کی خوبیاں پیش کرو۔پس ابتدا بھی آریوں کی طرف سے ہوئی اور اب بھی فتنہ آریوں نے اٹھایا۔بعض دفعہ آریہ کہہ دیا کرتے ہیں تحفتہ الہند وغیرہ کتابیں مسلمانوں کی طرف سے شائع کی گئیں جن میں ہندوؤں کے مذہب پر حملے کئے گئے۔مگر یہ بھی غلط ہے۔ان میں ہندوؤں پر حملے نہیں کئے گئے بلکہ ہندوؤں کی اپنی روایتیں نقل کی گئی ہیں اور آریوں کا کوئی حق نہیں کہ ان کو اعتراض کے طور پر پیش کریں۔کیونکہ جن مسائل پر ان کتابوں میں اعتراض کئے گئے ہیں ان پر بہت سخت الفاظ میں پنڈت دیانند صاحب نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔پھر وہ کتابیں اسلام پر نا پاک حملے کرنے کی وجہ کس طرح ہو سکتی ہیں۔ان مسائل پر خود پنڈت دیا نند نے بہت سخت الفاظ میں اعتراض کئے ہیں۔جوش اس بات پر آتا ہے جسے انسان سچا سمجھتا ہو اور دوسرا اس پر گندے اعتراض کرے۔مگر وہ بات جسے کوئی شخص سچا ہی نہ مجھے بلکہ اس کا رشی اس پر سخت اعتراض کرے اس پر اگر کسی مسلمان نے اعتراض کیا تو اسے اسلام پر حملہ کرنے کی وجہ کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے۔غرض نا پاک اعتراضوں اور گندی گالیوں کی ابتدا آریوں کی طرف سے ہوئی جو جاری رہی۔یہاں تک کہ 1907 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لاہور کی آریہ پر تھی ”ند ہی سبھا نے مرزا یعقوب بیگ صاحب سے خط لکھایا کہ آپ بھی 66 اس سبھا کے جلسے میں پڑھے جانے کے لئے مضمون لکھیں۔اس پر آپ نے لکھوایا کہ ایسا نہ ہو آریہ اس جلسے میں اسلام اور بانی اسلام کو گالیاں دیں اس کے متعلق تسلی ہو جانی چاہئے۔اس پر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے لکھا کہ آریوں نے اطمینان