سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 411
سيرة النبي عالي 411 جلد 2 بہت سے کمزور طبع انسان جو محض جھگڑے کو دیکھ کر دشمن کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں جب دیکھتے ہیں دشمن صلح کے لئے کہتا ہے تو کہہ دیتے ہیں اب جھگڑے کی کیا بات ہے صلح کر کے جھگڑا ختم کرنا چاہئے۔لیکن یہ امر ان لوگوں کی بزدلی پر دلالت کرتا ہے نہ کہ جرات پر۔یہ اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ ان کے اخلاق اعلیٰ ہیں بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں ہمت کی کمی ہے۔جو لوگ دین کی باتوں کو محض الفاظ کی صلح پر قربان کر کے صلح کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں وہ بیوقوف ہوتے ہیں۔دیکھو بنو نضیر نے جب رسول کریم ﷺ کے حملے کے وقت محسوس کیا کہ آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور ان کی یہ امیدیں پاش پاش ہو گئیں کہ منافق مدد کریں گے تو انہوں نے فوراً کہلا بھیجا کہ ہم اپنے کئے پر نادم ہیں اور اپنی غلطی کا اقرار کرتے ہیں ہم سے صلح کر لی جائے۔اُس وقت رسول کریم ﷺ نے یہ نہ فرمایا کہ اچھا تم نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہم تم سے صلح کرتے ہیں۔کیونکہ جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ ایسے افعال تھے جن کے لئے لفظی ندامت کافی نہ تھی۔ان کی صرف ایک غلطی نہ تھی بلکہ بیسیوں غلطیاں رسول کریم ﷺ کی نظر میں تھیں۔اور وہ ایسی نہ تھیں جنہیں اجتہاد کی کمزوری کی غلطی کہا صلى الله جا سکے بلکہ وہ غلطیاں ایسی تھیں جن میں کمینہ پن، غداری و خفیہ سازش کی آمیزش تھی۔اتنے لمبے تجربے اور اتنی غلطیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ایسی غلطیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جو وقتی جوش کے ماتحت نہیں آ سکتی تھیں بلکہ غداری اور سازش کے نتیجہ میں تھیں ان کی وجہ سے رسول کریم ﷺ ان لوگوں کے لفظوں پر اعتبار نہ کر سکتے تھے اور نہ آپ نے اعتبار کیا۔جب انہوں نے کہا ہم صلح کرتے ہیں تو ان امور پر نظر ڈالتے ہوئے اور ان کے اطوار و اعمال کا تجربہ سامنے رکھتے ہوئے آپ نے کہا ہم بھی صلح کے لئے تیار ہیں مگر ہم اس صلح پر کسی نیک نتیجہ کا مدار نہیں رکھ سکتے جو صرف اتنی ہو کہ لڑائی بند ہو جائے۔اگر تمہارا اس سے یہ مطلب ہے کہ پہلے کی طرح ہماری بغل میں بیٹھے رہو اور جب موقع ملے چھری چلاتے رہو تو اس کے لئے ہم تیار نہیں۔اب صلح اسی پر ہوسکتی