سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 410
سيرة النبي ع 410 جلد 2 فتنہ معلوم ہوتی ہے درحقیقت دنیا کی بہتری اور بھلائی کا باعث ہوتی ہے۔اسی طرح موجودہ فتنہ جو ہندو مسلمانوں کے جھگڑوں کا پیدا ہوا ہے گو اس کے بواعث کیسے ہی خطرناک اور اخلاق و دیانت سے کتنے ہی گرے ہوئے کیوں نہ ہوں آئندہ امن کے قیام میں بہت مدد دے سکتا ہے۔ہاں اس فتنہ کا لمبا ہوتے جانا بعض لحاظ سے ضرور ضرر رساں ہے۔پس جلد یا بدیر دنیا کو یا کم از کم ہندوستان کے لوگوں کو سوچنا پڑے گا کہ اس فتنہ کے دور کرنے کے ذرائع کیا ہیں۔یہ قدرتی بات ہے کہ جب ایک قوم کو دوسری قوم سے اپنے افعال کی وجہ سے نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے تو خواہ دیانتداری سے یا بد دیانتی سے سچائی پر اپنی آواز کو مبنی کر کے یا فریب سے مدد لیتے ہوئے وہ قوم ایک رنگ میں ندامت کا اظہار کرتی ہے۔بسا اوقات اس ندامت کے اظہار میں منصو بہ اور مکر پوشیدہ ہوتا ہے۔اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو صلح کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے اس لئے نہیں بڑھا تا کہ صلح کرنا چاہتا ہے بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ میں نے مناسب موقع نہ دیکھا تھا جس وقت کہ جنگ کی بنیاد رکھی۔اب مجھے دوسرے وقت کا انتظار کرنا چاہئے اور اس وقت صلح کر کے اپنا پیچھا چھڑانا چاہئے۔ایسے وقت میں صلح کے لئے جو کچھ وہ کہتا ہے وہ صرف الفاظ ہوتے ہیں جو حقیقت سے خالی ہوتے ہیں اور خالی الفاظ کی صلح پر قوم کی زندگی کی بنیاد قائم نہیں کی جاسکتی۔پس صلح کے متعلق جب سوال اٹھایا جائے تو اس پر بہت احتیاط سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس وقت جب کہ ہندوؤں میں یہ احساس پیدا ہو کہ انہوں نے بانی اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے میں غلطی کی ہے اور وہ ظاہر کریں کہ صلح پر آمادہ ہیں تو اسلام کی تعلیم تقاضا کرے گی کہ مسلمان اس آمادگی پر نفرت کا اظہار نہ کریں بلکہ خود بھی آمادگی کا اظہار کریں۔چونکہ جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے کہ جلد یا بدیر وہ وقت آنے والا ہے جب صلح کا سوال پیدا ہو گا۔اس لئے ہمیں پہلے سے سوچنا چاہئے کہ ایسے موقع پر کن شرائک سے ہمیں صلح کرنی چاہئے اور کیسی صلح سے اجتناب کرنا چاہئے۔