سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 409

سيرة النبي عالم 409 جلد 2 ہندوؤں کی رسول کریم ﷺ کی شان میں گستاخی پر تبصرہ حضرت مصلح موعود نے 5 اگست 1927 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔”ہندو مسلمانوں کے درمیان پچھلے دنوں جو اختلاف پیدا ہوا ہے اس کے جائز و نا جائز ہونے کو نظر انداز کر کے اس بات کے متعلق کوئی بھی شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ ملک کی بہبودی اور دنیا کے امن کے قیام کو مد نظر رکھتے ہوئے اس قسم کے فساد اور فتنے ضرور مضر ہوتے ہیں۔لیکن جس طرح لڑائی کو ہر شخص ناپسند کرتا ہے اور جس طرح جنگ ہمیشہ سے بری سمجھی گئی اسی طرح دنیا کے اعلیٰ سے اعلیٰ اخلاق کے لوگ جن کے اخلاق کے سامنے دنیا نے سر جھکا دیئے جنگ کی ضرورت کے قائل بھی رہے ہیں۔اور نہ صرف قائل رہے ہیں خود جنگوں میں حصہ لیتے رہے ہیں بلکہ انہوں نے جنگیں برپا کی ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے مطابق بعض چیزیں اچھی اور بعض بری ہوتی ہیں۔میرا اپنا خیال تو یہی ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ ہر چیز ہی موقع کے لحاظ سے اچھی اور بری ہوسکتی ہے لیکن اگر ہر چیز کے لئے یہ خیال نہ بھی کیا جائے تو بہت سی چیزوں کے متعلق تو یہ کہنا ضرور ٹھیک ہے۔پس تلوار کی لڑائی بھی اور بندوقوں کی جنگ بھی اور توپوں کی بوچھاڑ بھی بعض موقعوں پر اچھی اور بعض پر بری ہوتی ہے۔لیکن بعض جگہ انصاف کے قیام کے لئے تلوار کا اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔بعض جگہ امن کے قیام کے لئے اک فتنہ پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور بظاہر جو چیز اُس وقت