سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 374

سيرة النبي علم 374 جلد 2 بعید ہے۔اگر وہ لوگ جو بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف آریوں کی گالیوں پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ان میں بھی انسانیت ہوتی اور ملک میں امن قائم رکھنا ضروری سمجھتے تو جب آریوں نے رسول کریم ﷺ کو گالیاں دی تھیں سکھ ، یہودی ، عیسائی اور دیگر مذاہب والے اٹھ کھڑے ہوتے اور ان سے کہتے تمہاری یہ خلاف انسانیت حرکت ہم برداشت نہیں کر سکتے ، یہ کونسی شرافت ہے کہ تم مسلمانوں کے رسول کو گالیاں دے رہے ہو۔اب اگر دوسرے مذاہب والوں نے یہ نہیں کیا تو یہ ان کی بے غیرتی اور بے ہودگی کا ثبوت ہے نہ کہ وسعت حوصلہ اور فراخ دلی کا۔لیکن میں کہتا ہوں یہ بھی غلط ہے کہ دیگر مذاہب کے لوگ نہیں بولے۔میں جانتا ہوں خود ہندوؤں میں ایسے لوگ ہیں جو آریوں کی بدزبانیوں کو سخت نا پسند کرتے ہیں۔اسی طرح عیسائیوں میں ایسے لوگ ہیں جو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔تھوڑے ہی دن ہوئے ایک عیسائی اخبار نے ایک مضمون بھی اس بارے میں لکھا تھا۔سکھوں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو آریوں کی بدزبانیوں کو نا پسند کرتے ہیں۔چنانچہ ابھی چند دن ہوئے سیالکوٹ میں مسلمانوں نے ایک جلسہ کیا۔اس میں جب ہمارے ایک مبلغ نے ورتمان“ کا مضمون پڑھ کر سنایا تو معلوم ہوا کئی سکھوں کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔بات اصل یہ ہے کہ جس قوم میں شرافت ہو وہ ایسے افعال پر اظہار نفرت کرنے پر مجبور ہو گی۔ایسے تمام ہندوؤں ،سکھوں، عیسائیوں، پارسیوں کے ہم ممنون ہیں جو انسانیت کے قدر دان اور غیر شریفانہ افعال پر اظہار نفرت کرنے والے ہیں۔اور دوسرے خواہ وہ کسی قوم کے ہوں جنہوں نے اظہار نفرت نہیں کیا ان کے متعلق کہتے ہیں انہوں نے سمجھا نہیں کہ انسانیت کا فرض ادا کرنے میں انہوں نے کس قدر کوتا ہی کی ہے اور انہوں نے خیال نہیں کیا کہ آج اگر مسلمانوں پر حملے کئے جارہے ہیں تو کل ایسا ہی وقت ان پر بھی آسکتا ہے ہے۔یہ بات نہ سمجھتے ہوئے وہ انسانیت کے فرض کی ادائیگی سے قاصر رہے ہیں۔پھر ایک اور وجہ ہے جس سے مسلمان شور مچا رہے ہیں اور وہ یہ کہ مسلمانوں کو