سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 353
سيرة النبي الله 353 جلد 2 کریں جب تک ان کے حقوق انہیں مل نہ جائیں۔اگر انہیں اپنے اوپر رحم نہیں آتا تو کم سے کم اپنی آئندہ نسلوں پر رحم کریں اور انہیں دائگی غلامی میں نہ چھوڑیں۔اتحاد عمل اور اس کا طریق یہ تینوں تجویزیں اس وقت مسلمانوں کے آزاد ہونے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔لیکن ان پر کبھی کامیابی سے عمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمام مسلمان کہلانے والے لوگ اکٹھے نہ ہو جائیں۔مسلمانوں کی ناکامی ان کے تفرقہ کا نتیجہ ہے۔وہ مخالفین اسلام کے دھو کے میں آکر آپس میں ایک دوسرے کی گردن کاٹتے رہتے ہیں اور دشمن ہنستا ہے کہ میں خود انہی کے ہاتھوں ان کو تباہ کرا دوں گا۔آؤ آج سے فیصلہ کر لو کہ خواہ کس قدر ہی اختلاف مذہبی یا سیاسی ہو غیر قوموں کے مقابلہ میں ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ہمارے مذہبی، سیاسی، تمدنی، اقتصادی اختلاف ہمیں آپس میں مل کر کام کرنے سے نہیں روکیں گے۔ہم اپنے مذہب پر قائم رہیں اور محبت سے اس کی تلقین کریں۔اپنا کوئی اصل نہ ترک کریں نہ کسی سے ترک کرائیں۔لیکن ہم باوجود ہزاروں اختلافات کے اس امر کو نہ بھولیں کہ ایک نقطہ ہے جس پر ہم سب جمع ہو جاتے ہیں۔اور ایک مقام ہے جہاں آ کر ہم سب بسیرا کر لیتے ہیں۔وہ نقطہ کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ ہے اور وہ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ مبارک ہے۔پس مخالفین اسلام کے مقابلہ کے لئے ہم سب کو جمع ہو جانا چاہئے تا کہ ہمارا اختلاف ہماری تباہی کا موجب نہ ہو۔یہ اتحاد ایسا ہو کہ ہم اس میں سے کسی کو باہر نہ رہنے دیں۔خلافتی یا خوشامدی ، لیگ کا ماننے والا یا کانگرسی، عدم تعاونی یا ملازم سرکار، کسی کو بھی ہم اپنے سے دور نہ کریں کیونکہ اس عظیم الشان جدوجہد میں ہمیں ہر ایک میدان کے سپاہی کی ضرورت ہے۔خلافتی کی بھی ہمیں اسی طرح ضرورت ہے جس طرح خوشامدی کی۔ابھی سے ہر ایک اپنا اپنا کام کر سکتا ہے۔اس لئے چاہئے کہ مفید تجویز کسی کی طرف سے پیش ہو، خواہ وہ ہمارا کس قدر ہی دشمن ہو ہم سب مل کر اس کی تائید کریں اور