سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 352
سيرة النبي عمال 352 جلد 2 کس طرح اس امر پر راضی ہو گئے کہ پچپن فیصدی آبادی کے باوجود چالیس فیصدی حقوق انہوں نے طلب کئے لیکن ملے اب تک وہ بھی نہیں۔مسلمانوں کی یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی کہ وہ ملازمتوں کو حقیر چیز خیال کرتے تھے۔ملازمت اگر ایسی ہی حقیر ہوتی تو ہندو جو ایک بیدار قوم ہے کیوں اس طرح اس کی خاطر اپنی تمام تر طاقت خرچ کر دیتی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ملازمت اپنی ذات میں بڑی شے نہیں لیکن اس کا واسطہ تمدنی ترقی سے اس قدر ہے کہ اس میں کمی یا زیادتی قوم کو تباہ کرسکتی یا بنا سکتی ہے۔ملازمت کے سوا قو می گزارہ کا ذریعہ یا زراعت ہے یا ٹھیکہ داری یا صنعت و حرفت۔مگر کیا زراعت کی کامیابی نہروں ،تحصیل کے عملہ اور جوڈیشری پر موقوف نہیں؟ ٹھیکہ داری پبلک ورکس، ریلوے اور نہروں سے متعلق نہیں؟ اور تجارت اور صنعت و حرفت گورنمنٹ سپلائی کے ساتھ وابستہ نہیں ؟ جن لوگوں کے پاس ملازمتیں ہوں گی وہی ان کاموں میں ترقی کریں گے اور کر رہے ہیں۔جس قدر بڑے بڑے مالدار ہندو اس وقت ہیں ان میں سے اکثر کو دیکھ لو کہ ان کی ترقی کا پہلا زینہ سرکاری ٹھیکہ داری پاؤ گے اور اس کا باعث ہندو افسر ہوگا۔پس مسلمانوں کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ اپنی تعداد کے مطابق یا کم سے کم پچاس فیصدی تک اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی متواتر کوشش کریں اور اُس وقت تک بس نہ کریں جب تک کہ یہ حق ان کو مل نہ جائے۔میں نے سنا ہے کہ ملازمتیں تو الگ رہیں تعلیم میں بھی مسلمانوں کی ترقی کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیشہ سکھانے والے کالجوں میں مسلمان کل چالیس فیصدی داخل کئے جائیں۔اگر یہ صحیح ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ مسلمان کبھی اپنے حق کو حاصل ہی نہ کر سکیں۔کیونکہ جو لوگ چالیس فیصدی کالجوں میں داخل کئے جائیں گے وہ پچپن فیصدی یا پچاس فیصدی حق پانے کے قابل کبھی ہو ہی نہیں سکتے۔پس چاہئے کہ مسلمان ایک ایک کر کے ہر ایک صیغہ کے متعلق نہ ختم ہونے والی جد و جہد کریں اور اُس وقت تک بس نہ