سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 19
سيرة النبي الله 19 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی قربانیاں حضرت مصلح موعود اپنے خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1919 ء برموقع جلسہ سالانہ قادیان میں فرماتے ہیں :۔رسول کریم ﷺ جو یہ فرماتے ہیں کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ 1 اس میں قربانی سے مراد بکروں کی قربانی نہیں بلکہ جسمانی اور نفس کی قربانی ہے۔اور صلاتي کا لفظ مَحْيَايَ کے مقابلہ میں ہے اور نُسکی کا لفظ مماتی کے مقابلہ میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی یہ پچھلے لفظوں کی تشریح کرتا ہے۔صلاتي کے لئے فرمایا مَحْيَايَ یعنی نماز کے مقابلہ میں زندگی کو رکھا کہ رسول کریم صلى الله ہ فرماتے ہیں نماز پڑھنے سے میں نے زندگی حاصل کی اور خدا کو پالیا ہے۔اور نُسکی کے مقابلہ میں مَمَاتِي یعنی نفس کی قربانی کو رکھا ہے۔اس میں رسول کریم ﷺ کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ آپ نے اپنے نفس کو قتل کر دیا مگر ایسا قتل کیا کہ اس سے ہزاروں زندہ ہو گئے۔تو جب تک انسان اپنے نفس کو قتل نہ کرے اُس وقت تک خدا تعالیٰ کا عبد نہیں کہلا سکتا۔اور خدا تعالیٰ کے لئے جب تک ”میں“ نہ ٹوٹے کوئی انسان عبد نہیں ہوسکتا کیونکہ ”میں“ کہنے والا عبد نہیں سمجھا جاسکتا۔“ 66 ( خطاب جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1919 ء صفحہ 56،55) 1: الانعام: 163