سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 298

سيرة النبي الله 298 جلد 2 رسول کریم علیہ کی ذکر الہی کی ایک سنت حضرت مصلح موعود 28 جنوری 1927ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔اذکار میں سے ایک وہ ذکر ہے جو سوتے وقت کیا جاتا ہے۔نبی کریم ﷺ ہمیشہ سوتے وقت آیت الکرسی ، سورۃ اخلاص، سورۃ فلق اور سورۃ ناس جو قرآن کریم کی آخری سورتیں ہیں تین دفعہ پڑھ کر ہاتھوں پر پھونکتے اور پھر ہاتھ اپنے جسم پر پھیرا کرتے تھے۔آپ ہاتھوں پر پھونک کر ہاتھوں کو جسم پر اس طرح پھیرتے کہ سر سے شروع کرتے اور جہاں تک ہاتھ پہنچ سکتے وہاں تک پھیر تے 1۔یہ آنحضرت ﷺ کی سنت ہے۔جس کام کو آپ نے دینی کام سمجھ کر باقاعدہ اور ہمیشہ جاری رکھا اسے سنت کہتے ہیں۔چونکہ یہ ذکر بھی آپ ہمیشہ کیا کرتے تھے اس لئے اس سنت کی پابندی ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔پس ذکر کو بھی یہ خیال کر کے نہیں چھوڑنا چاہئے کہ یہ ایسا ضروری نہیں جس کے نہ کرنے سے جہنم میں چلے جائیں گے اور نہ یہ خیال کرنا چاہئے کہ صرف یہی ذکر جنت میں جانے کے لئے کافی ہے اور اس کے ساتھ اور اعمال کی ضرورت نہیں۔جب نبی کریم ﷺ جیسا انسان اپنی ترقیات کے لئے ان اذکار کا محتاج تھا تو تم کیونکر کہہ سکتے ہو کہ ہمیں ایسے اذکار کی ضرورت نہیں۔آنحضرت ﷺ کی یہ سنت تھی کہ آپ ہمیشہ سوتے وقت آیت الکرسی اور تینوں قل تین دفعہ پڑھتے اور پھر ہاتھوں پر پھونک مار کر جسم پر ہاتھ پھیرتے۔“ ( الفضل 8 فروری 1927ء ) 1: بخاری کتاب فضائل القرآن باب فضل المُعوذات صفحہ 899 حدیث نمبر 5017 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية