سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 297

سيرة النبي علي 297 جلد 2 صلى الله گھروں میں دروازے بند کئے بیٹھے تھے ، عورتیں اور بچے بھی مارے خوف کے کانپ رہے تھے کہ اب معلوم نہیں کیا ہو گا ، اب ہمارے مظالم کی ہمیں کیا کیا سزائیں ملیں گی اور مکہ کا ہر گھر ماتم کدہ بنا ہوا تھا جب آنحضرت علی کی طرف سے اس حیات بخش اعلان کو سنا تو تمام لوگ بھاگتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے قدموں پر آ گرے۔کس حیرت اور تعجب کے ساتھ مکہ کے لوگوں نے وہ آوازیں سنی ہوں گی جو مکہ کی گلیوں میں ایک سرے سے دوسرے تک پھیل گئیں اور حیات بخش کلام نے ان کے اندر کیا تغیر پیدا کیا ہوگا۔اب دیکھو تلواریں وہ کام نہ کر سکیں جو محبت کے تیر نے کام کیا۔لَا تَشْرِیبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کا ایک ہی تیر مکہ کے دلوں کو فتح کرتا ہوا چلا گیا۔پھر جس وقت اطراف مکہ میں یہ آواز پہنچی تو وہ بھی ایک دوسرے سے بڑھ کر ایمان لانے میں مقابلہ کر رہے تھے کیونکہ وہ تو مکہ کی تباہی کی خبر کے منتظر تھے۔لیکن اس کے بالکل خلاف جب انہوں نے یہ سلوک دیکھا تو ان کے دل بالکل بے اختیار ہو گئے۔“ (الفضل 30 نومبر 1926ء) 1: السيرة الحلبية الجزء الثالث صفحہ 207، 208 زیر عنوان فتح مكة شرفها الله تعالى مطبوعہ بیروت لبنان 2012 ء