سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 288
سيرة النبي علي 288 جلد 2 چیزیں تو آنحضرت ﷺ نے اس دنیا میں جمع نہ کیں پھر وہاں آپ کو ان کی کیا ضرورت ہے۔جب دنیا میں جہاں سے ان چیزوں کا تعلق ہے آپ نے ان کی پرواہ نہیں کی ، آپ نے مال نہیں جمع کیا ، جائیداد نہیں بنائی، باغ نہیں لگائے محل نہیں تیار کئے تو اگلے جہان میں آپ کو ان کی کیا احتیاج ہو سکتی ہے۔پس ہم اگر آپ کے لئے دعا کرتے ہیں تو یہی کہ آپ کے روحانی مدارج میں ترقی ہو۔خدا آپ کو اور بھی ترقی دے۔اور یہ صاف بات ہے کہ جب آپ روحانیت میں ترقی کریں گے تو امت بھی آپ کے ساتھ ترقی کرے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے :۔تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے پس جوں جوں آنحضرت علیہ آگے بڑھیں گے توں توں ہم بھی بڑھیں گے۔اس لئے درود نہ صرف آپ کے مدارج بڑھنے کے لئے ہے بلکہ ہمارے لئے بھی ہے۔پھر درود سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ جو شخص درود کثرت سے پڑھتا ہے اس کی دعائیں کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔دنیا میں یہ طریق ہے کہ اگر کسی سے کچھ کام کرانا ہوتا ہے تو اس کی پیاری چیز سے پیار کیا جاتا ہے۔کسی عورت سے اگر کوئی کام کرا نا ہو تو اس کے بچہ کو پیار کرو۔اگر ایک باپ سے کوئی کام کروانا ہو تو اس کے بچے سے محبت کرو۔پھر دیکھو وہ کیسا مہربان ہوتا ہے۔فقیر بھی جب خیرات لینے کے لئے دروازہ پر جاتا ہے تو یہ صدا کرتا ہے مائی ! تیرے بچے جیئیں۔کیونکہ فقیر بھی جانتے ہیں کہ اس صدا کا ماں پر بہت اثر ہوتا ہے۔جب ماں یہ آواز سنتی ہے تو دوڑی آتی ہے اور فقیر کو خیرات دیتی ہے۔دیکھو! اس آواز کو سنتے ہی جو اس کے پیارے بچے کے لئے ایک دعا ہوتی ہے وہ کس طرح دوڑی آتی ہے۔اسی طرح درود پڑھنے والے شخص کے متعلق جب خدا دیکھتا ہے کہ اس نے اس کے پیارے کے لئے دعا کی تو کہتا ہے تو