سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 253
سيرة النبي عالي 253 جلد 2 (9) آپ اس امر پر بھی زور دیتے تھے کہ اخلاق کی اصل غرض انسان کی اپنی اور دوسرے لوگوں کی اصلاح ہے پس اخلاق فاضلہ وہی ہیں جس سے انسان کا نفس اور دوسرے لوگ پاکیزگی حاصل کریں۔پس آپ کبھی تعلیم کے ایک پہلو پر زور نہیں دیتے تھے بلکہ ہمیشہ ہر چیز کے سب پہلوؤں کو بیان کرتے تھے۔مثلاً یہ نہیں کہتے تھے کہ نرمی کرو، عفو کرو بلکہ یہ فرماتے تھے کہ جب کوئی شخص تم کو تکلیف دے تو یہ سوچو کہ اس شخص کی اصلاح کس بات میں ہے۔اگر وہ شخص شریف الطبع ہے اور معاف کرنے سے آئندہ ظلم کی عادت کو چھوڑ دے گا اور اس نمونہ سے فائدہ حاصل کرے گا تو اسے معاف کر دو۔اور اگر یہ دیکھو کہ وہ شخص بہت گندہ ہو چکا ہے اور اگر تم اسے معاف کرو گے تو وہ یہ سمجھ لے گا کہ اس شخص نے مجھ سے ڈر کر مجھے سزا نہیں دی یا نہیں دلوائی اور اس وجہ سے وہ بدی پر دلیر ہو جائے گا اور اور لوگوں کو بھی دکھ دے گا تو اسے اس کے مُجرم کے مطابق سزا دو۔کیونکہ ایسے شخص کو معاف کرنا دوسرے ناکردہ گناہ لوگوں پر ظلم ہے جو ایسے شخص کے ہاتھ سے تکلیف اٹھا رہے ہیں یا آئندہ اٹھا سکتے ہیں۔(10) آپ کی یہ بھی تعلیم تھی کہ کبھی کسی دوسری حکومت پر حملہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ جنگ صرف بطور دفاع کے جائز ہے اور اُس وقت بھی اگر دوسرا فریق اپنی غلطی پر پشیمان ہو کر صلح کرنا چاہے تو صلح کر لینی چاہئے۔(11) آپ کی یہ بھی تعلیم تھی کہ انسان کی روح مرنے کے بعد ترقی کرتی چلی جاوے گی اور کبھی فنا نہ ہو گی حتیٰ کہ گنہگار لوگ بھی ایک مدت اپنے اعمال کی سزا بھگت کر خدا کے رحم سے بخشے جائیں گے اور دائمی ترقی کی سڑک پر چلنے لگیں گے۔کفار کی مدینہ پر چڑھائی اہل مکہ نے جب دیکھا کہ مدینہ میں آپ کو اپنی تعلیم کے عام طور پر پھیلانے کا موقع مل گیا ہے اور لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگے ہیں تو انہوں نے متواتر مدینہ پر چڑھائیاں کرنی شروع کیں مگر ان لشکر کشیوں کا نتیجہ بھی ان کے حق میں برا نکلا اور