سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 251
سيرة النبي عل الله 251 جلد 2۔جو کچھ بھی ہے خواہ فرشتے ہوں خواہ انسان سب اسی کی مخلوق ہے۔یہ عقیدہ اللہ تعالیٰ کی ہتک ہے کہ وہ انسانوں کے جسم میں آ جاتا ہے یا اس سے کوئی اولاد ہوتی ہے یا وہ بتوں میں داخل ہو جاتا ہے وہ ان سب باتوں سے پاک ہے۔وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔جس قدر مصلح گزرے ہیں سب اس کے بندے تھے، کسی کو الوہیت کی طاقتیں حاصل نہ تھیں۔سب کو اسی کی عبادت کرنی چاہئے اور صرف اسی سے دعائیں مانگنی چاہئیں۔اسی پر اپنے تمام کاموں کا بھروسہ رکھنا چاہئے۔(2) یہ کہ خدا تعالیٰ نے انسانوں کو ایک اعلیٰ درجہ کی روحانی اور اخلاقی اور تمدنی ترقیات کے لئے پیدا کیا ہے وہ ہمیشہ دنیا میں اس غرض کو جاری رکھنے کے لئے نبی بھیجتا رہا ہے اور ہر قوم میں بھیجتا رہا ہے۔آپ اس امر کے سخت مخالف تھے کہ نبوت کو کسی ایک قوم میں محدود رکھا جاوے کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ پر جانبداری کا الزام آتا ہے جس سے وہ پاک ہے اور دنیا کی ہر قوم کے نبیوں کی تصدیق کرتے تھے۔(3) آپ اس امر پر زور دیتے تھے کہ خدا تعالیٰ ہر زمانہ کی ضروریات کے مطابق اپنا کلام نازل کرتا رہا ہے۔اور آپ کا دعویٰ تھا کہ آخری زمانہ کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا ہے اور اس بنا پر آپ قرآن کریم کو سب پہلی کتابوں سے مکمل سمجھتے تھے اور اس کی تعلیم کی طرف لوگوں کو بلاتے تھے۔(4) آپ کا یہ دعویٰ تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی ہستی کا یقین دلانے کیلئے ہمیشہ اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور ان کے لئے نشان دکھاتا رہتا ہے اور آپ دعویٰ کرتے تھے کہ جو لوگ بھی آپ کی تعلیم پر عمل کریں گے وہ اپنے تجربہ سے ان باتوں کی صداقت معلوم کر لیں گے۔اور میں اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر آپ کو کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات بالکل درست ہے۔اور میں نے خود بھی اسلام کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی باتیں سنی ہیں جس طرح موسیٰ اور مسیح کے زمانہ کے لوگ سنتے تھے اور خدا تعالیٰ نے کئی دفعہ مجھے ایسے نشان دکھائے ہیں جو انسانی طاقت سے بالا تھے۔