سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 247

سيرة النبي عل الله 247 جلد 2 ملک میں یہ فساد آپ نے کیوں مچا دیا ہے؟ اگر آپ کی یہ غرض ہے کہ آپ کو عزت مل جائے تو ہم سب شہر میں سے آپ کو معزز قرار دے دیتے ہیں۔اگر مال کی خواہش ہے تو ہم سب شہر کے لوگ اپنے مالوں کا ایک ایک حصہ الگ کر کے دے دیتے ہیں جس سے آپ سارے شہر سے زیادہ امیر ہو جائیں گے۔اگر حکومت کی خواہش ہے تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کے لئے تیار ہیں۔اگر شادی کی خواہش ہے تو جس عورت سے آپ چاہیں آپ کی شادی کرا دی جائے گی۔مگر آپ ایک خدا کی پرستش کی تعلیم نہ دیں 14۔جس وقت وفد نے یہ پیغام آپ کو آ کر دیا آپ نے فرمایا کہ دیکھو! اگر سورج کو میرے ایک طرف اور چاند کو میرے دوسری طرف لا کر کھڑا کر دو یعنی یہ دنیا کا مال تو کیا ہے اگر چاند اور سورج کو بھی میرے قبضہ میں دے دو تب بھی میں اس تعلیم کو نہ چھوڑوں گا 15۔مخالفین کا تبلیغ میں روکیں ڈالنا اور مقاطعہ کرنا اس وقت تک کل 80 آدمی رسول کریم علی پر ایمان لائے تھے مگر جب مکہ کے ظلموں کی خبر باہر پہنچی تو لوگوں نے تحقیقات کے لئے مکه آنا شروع کیا۔اس پر اہل مکہ بہت گھبرائے اور انہوں نے شہر کی سڑکوں پر پہرے مقرر کر دیئے کہ کوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل نہ سکے اور ارادہ کیا کہ آپ کو قتل کر دیں۔اس پر آپ کے چا اور دیگر رشتہ دار آپ سمیت ایک وادی میں چلے گئے تا کہ آپ کی حفاظت کریں۔پس جب اس طرح بھی کام چلتا نہ دیکھا تو سب اہل مکہ نے معاہدہ کر لیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان اور تمام مسلمانوں کا مقاطعہ کیا جائے اور کوئی شخص ان کے پاس کوئی کھانے پینے کی چیز فروخت نہ کرے اور نہ ان سے شادی بیاہ کا تعلق کیا جائے اور نہ ان سے کبھی صلح کی جاوے جب تک وہ آپ کو قتل کے لئے نہ دے دیں۔