سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 12

سيرة النبي علي 12 جلد 2 صرف ایک آیت قرآنی میں بے نظیر جامع تعلیم اب ہم اسلام کے بعض احکام کو لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کے معلم ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں 6 فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبى : که اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے عدل کا اور پھر احسان کا اور پھر اِيْتَائِ ذِي الْقُرْبى کا۔اب سوچنا چاہئے کہ عدل کیا چیز ہے۔عدل کہتے ہیں برابری کے معاملہ کو یعنی جو اپنے لئے پسند کرتے ہو دوسروں کے لئے بھی پسند کرو اور جو اپنے لئے نا پسند سمجھتے ہو اسے دوسروں کے لئے بھی ناپسند قرار دو۔یہ عدل ہے۔پھر فرماتا ہے اسی پر بس نہ کرو بلکہ احسان کا معاملہ کرو۔یعنی جتنا کسی کا حق ہو اس سے زیادہ دو۔پھر فرمایا اس احسان کے درجہ کو آخری درجہ قرار نہ دو بلکہ چاہئے کہ لوگوں سے ایسا سلوک کرو جیسا کہ ماں اپنے بچہ سے کرتی ہے۔احسان کرنے میں کوئی غرض پوشیدہ ہوسکتی ہے مگر ماں کے بچہ کو دودھ پلانے میں کوئی غرض پوشیدہ نہیں ہوتی۔بلکہ دیکھا گیا ہے کہ بعض نالائق لڑ کے کسی دنیاوی درجہ کو پہنچ کر ماں باپ کی عزت نہیں کرتے مگر ماں باپ اس پر بھی ان سے محبت کرتے ہیں تو یہ درجہ وہ ہوتا ہے جس میں کسی غرض کی وجہ سے کسی سے سلوک نہیں کیا جاتا۔اس لئے فرمایا کہ لوگوں سے نیک سلوک کرو اور ایسا ہی کرو جیسا کہ ماں باپ اپنی اولا د سے کرتے ہیں۔اب ہم اس تعلیم پر غور کرتے ہیں کہ کیا یہ تعلیم ایسی ہے جو صرف کانوں کو خوش لگتی ہے یا واقعی اس پر عمل بھی کیا جا سکتا ہے۔اس کے لئے میں صرف کفار عرب نے حبشہ تک صحابہ کا پیچھا کیا ایک ہی واقعہ کا ذکر کروں گا۔پہلے میں یہ دکھاتا ہوں کہ کفار نے آنحضرت ﷺ اور آپ کے اتباع سے سلوک کیا کیا۔جب آپ مکہ میں تھے آپ اور آپ کے ساتھیوں پر طرح طرح کے ستم