سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 11
سيرة النبي الله 11 جلد 2۔مدینہ کو واپس آ رہے تھے ان سے ملی اور پوچھا کہ آنحضرت ﷺ کا کیا حال ہے؟ وہ چونکہ آنحضرت ﷺ کو زندہ دیکھ گئے تھے اس لئے مطمئن تھے انہوں نے کہا کہ اے عورت ! تیرا بھائی فوت ہو گیا۔اس عورت نے کہا کہ میں تجھ سے آنحضرت عے کے متعلق دریافت کرتی ہوں۔انہوں نے کہا تیرا باپ بھی فوت ہو گیا۔اس نے کہا کہ باپ کے متعلق دریافت نہیں کرتی آنحضرت ﷺ کے متعلق بتاؤ ان کا کیا حال ہے۔اس نے کہا کہ تیرا خاوند بھی فوت ہو گیا۔اس عورت نے غصہ سے کہا کہ میں تجھے آنحضرت ﷺ کے متعلق پوچھتی ہوں !! آخر اس شخص نے کہا کہ آپ تو زندہ ہیں۔اس نے کہا الْحَمْدُ لِلهِ اگر آپ زندہ ہیں تو باپ، خاوند، بھائی وغیرہ کے فوت ہو جانے کا کچھ غم نہیں 5۔اب غور کرنا چاہئے کہ وہ عرب جو کسی کے اتنا کہنے کو کہ " برتن پکڑانا اپنی ہتک عزت خیال کرتا تھا نبی کریم ﷺ کے اشاروں پر جان و مال فدا کرتا ہے اور فخر نہیں کرتا۔پھر عرب وہ لوگ ہیں جن کو اپنے وطن سے بہت محبت ہے حتی کہ وہ بدوی کہلاتا ہے اور بدوی کے معنی جنگلی کے ہیں وہ جنگل بہ جنگل پھرتا ہے۔ایران و روم کے سرسبز میدانوں میں نہیں اپنے ہی بے آب و گیاہ ملک کے جنگلوں میں چکر لگاتا ہے صلى الله محمد ﷺے کے لئے وہ اپنے ایسے محبوب وطن کو بھی چھوڑ دیتا ہے اور خوشی سے چھوڑتا ہے، پرواہ نہیں کرتا۔کیا یہ کا یا پلٹ دینا معجزہ نہیں؟ اب غور کرنا چاہئے کہ مجموعی طور پر ان تمام خرابیوں کو دور کرنا اور بالکل ہی کا یا پلٹ دینا کیا یہ معجزہ نہیں ؟ میں کہتا ہوں کہ اگر تمام انبیاء کے کاموں کو ان کے مقابلہ میں رکھا جائے تو ان کے کارنامے ان کارناموں کے مقابلہ میں گرد ہیں۔دنیا کی تاریخ اصلاح اس کی نظیر مطلق مطلق پیش نہیں کر سکتی۔یہ تو وہ حالت ہے جو ان کی اسلام کے بعد ہوئی۔