سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 229
سيرة النبي عالم 229 جلد 2 آقا اور ملازمین کے تعلقات سے متعلق تعلیم و رسول کریم ﷺ نے ملازمین سے جس حسن سلوک کی تعلیم دی ہے اس کے متعلق حضرت مصلح موعود اپنی کتاب ”احمدیت یعنی حقیقی اسلام میں تحریر فرماتے ہیں:۔اسلام سے پہلے آقا اور ملازم کی حیثیت ایک بادشاہ اور رعایا کی حیثیت ہی سمجھی جاتی تھی اور اس وقت بھی باوجود خیال کے بدل جانے کے عملاً یہی نظارہ ہمیں نظر آتا ہے مگر اسلام اس کا علاج ہمیں بتا تا ہے۔وہ یہ اصول قائم کرتا ہے کہ ایک آقا جس طرح روپیہ دیتا ہے اسی طرح ایک نو کر اپنا وقت اور اپنی جان دیتا ہے اس لئے لوگوں کا حق نہیں کہ وہ ان سے جابر بادشاہوں والا سلوک کریں اور جب کہ اسلام نے بادشاہوں کے ان حقوق کو بھی منسوخ کر دیا جو عا دتا اور رسما ان کو حاصل تھے تو پھر آقا اور ملازم کے ان غیر منصفانہ تعلقات کو وہ کب جائز رکھ سکتا تھا جو اسلام سے پہلے دنیا میں قائم تھے۔چنانچہ اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ آقا اپنے ملازم کو گالی نہ دے اور نہ مارے بلکہ ملازم تو الگ رہا غلام کے متعلق بھی اسلام یہی حکم دیتا ہے کہ نہ اس کو گالی دی جائے اور نہ مارا جائے ( اس جگہ ضمناً میں اس امر کا بیان کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلامی احکام غلامی کے متعلق بھی لوگوں کو سخت غلط فہمی ہے۔اسلام اس طرح غلامی کو جائز نہیں قرار دیتا جس طرح کہ دوسرے مذاہب جائز قرار دیتے ہیں۔اسلامی احکام کی رو سے کسی قوم میں سے غلام بنا نا صرف اُسی وقت جائز ہوتا ہے (1 ) جبکہ وہ اس لئے کسی دوسری قوم سے لڑے کہ اس سے جبراً اس کا مذہب چھڑا دے۔(2) جبکہ وہ لوگ جن کو غلام بنایا گیا ہو عملاً اپنی ظالمانہ اور خلاف انسانیت جنگ میں شامل