سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 224

سيرة النبي عالم 224 جلد 2 گاؤں مرار نامی ہے وہاں دیکھا کہ ایک طرف سے رونے کی آواز آ رہی ہے۔اُدھر گئے تو دیکھا ایک عورت کچھ پکا رہی ہے اور دو تین بچے رور ہے ہیں۔اس سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا کہ دو تین وقت کا فاقہ ہے کھانے کو کچھ پاس نہیں۔بچے بہت بیتاب ہوئے تو خالی ہنڈیا چڑھا دی تا یہ بہل جائیں اور سو جائیں۔حضرت عمرؓ یہ بات سن کر فوراً مدینہ کی طرف واپس آئے آٹا ، گھی ، گوشت اور کھجوریں لیں اور ایک بوری میں ڈال کر اپنے خادم سے کہا کہ میری پیٹھ پر رکھ دے۔اس نے کہا حضور ! میں جو موجود ہوں میں اٹھا لیتا ہوں۔آپ نے جواب دیا بے شک تم اس کو تو اٹھا کر لے چلو گے مگر قیامت کے دن میرا بوجھ کون اٹھائے گا ؟ 2 یعنی ان کی روزی کا خیال رکھنا میرا فرض تھا اور اس فرض میں مجھ سے کوتاہی ہوئی ہے اس لئے اس کا کفارہ یہی ہے کہ میں خود اٹھا کر یہ اسباب لے جاؤں اور ان کے گھر پہنچاؤں۔چونکہ سارے ملک کی خبر ملنی مشکل ہوتی ہے اس لئے اسلامی حکومت میں یہ انتظام ہوتا تھا کہ سب ملک کی مردم شماری کی جاتی تھی اور پیدائش اور موت کے رجسٹر مقرر کئے گئے تھے اور ان کی غرض آج کل کی حکومتوں کی طرح حکومت کے خزانوں کا بھرنا نہیں بلکہ خزانوں کا خالی کرنا ہوتی تھی۔ان رجسٹروں کے ذریعے سے ملک کی عام حالت معلوم ہوتی رہتی تھی اور جو لوگ محتاج ہوتے ان کی مدد کی جاتی۔مگر اسلام جہاں غرباء کی خبر گیری کا حکم دیتا ہے وہاں جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں سستی اور کاہلی کو بھی مٹاتا ہے۔ان وظائف کی یہ غرض نہ تھی کہ لوگ کام چھوڑ بیٹھیں بلکہ صرف مجبوروں کو یہ وظائف دیئے جاتے تھے ورنہ سوال سے لوگوں کو روکا جاتا تھا۔ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے ایک سائل دیکھا اس کی جھولی آٹے سے بھری ہوئی تھی۔آپ نے اس سے آٹا لے کر اونٹوں کے آگے ڈال دیا اور فرمایا اب مانگ 3۔اسی طرح یہ ثابت ہے کہ سوالیوں کو کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔دوسرا فرض حکومت کا عدل کا قائم کرنا ہے۔حکومت کا کام ہے کہ قضا کا