سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 196

سيرة النبي علي 196 جلد 2 ہر مومن خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق رکھتا ہے اور براہ راست ساری ذمہ داریاں پاتا ہے۔اب سوال یہ ہو سکتا ہے کہ پھر خدا کے رسولوں اور خلفاء کی اطاعت کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن ان کی اطاعت کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی سفارش کے بغیر خدا تعالیٰ کسی کی بات نہیں سنتا۔وہ خدا اور بندہ کے درمیان وسیلہ نہیں بلکہ نمونہ ہوتے ہیں۔وسیلہ تو یہ ہوتا ہے کہ چاہے کوئی شخص کتنا نیک اور پر ہیز گار ہو جب تک وسیلہ نہ کہے خدا اس سے نہیں ملے گا اور نمونہ یہ ہوتا ہے کہ فلاں انسان نیک اور خدا کا مقرب ہے ہم بھی ویسے بنیں۔تو انبیاء نمونہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ کامل اور اکمل وجود ہوتے ہیں۔وہ گویا خدا کا مجسم کلام ہوتے ہیں۔جس طرح خدا کے کلام کو لفظوں میں قرآن میں پڑھ لیا اگر اس کو شکل میں دیکھنا ہو تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا کا مجسم کلام بن گئے اس لئے جس طرح خدا کے کلام کی اتباع ہمارے لئے ضروری ہے اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع بھی ضروری ہے کیونکہ آپ لوگوں کے لئے نمونہ ہیں اور نمونہ کو دیکھ کر انسان بہت جلدی سمجھ سکتا ہے۔مثلاً اگر کسی کو وضو کرنے کا طریق سکھانا ہو تو وہ زبانی بتانے سے اتنی جلدی نہیں سیکھ سکے گا جتنی جلدی کر کے دکھانے سے سیکھ جائے گا۔تو ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو اطاعت کرتے ہیں یا آپ کے ذریعہ جو حکم دیئے گئے ہیں وہ اس لئے نہیں کہ آپ خدا اور ہمارے درمیان وسیلہ ہیں بلکہ اس لئے کہ آپ خدا کے احکام کا نمونہ اور تفسیر ہیں۔اور چونکہ آپ کے نمونہ کو دیکھے بغیر ہم خدا کے کلام کو سمجھ نہیں سکتے اس لئے آپ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ 1 کہ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا وہ قرآن کو پڑھ لے۔گویا انہوں نے قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قرار دے دیا۔کیونکہ قرآن میں کوئی صفت اور کوئی خوبی ایسی بیان نہیں ہوئی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں نہیں پائی جاتی۔اور قرآن میں کوئی عیب، کوئی شرعی برائی اور گناہ اور کوئی کبھی جو بیان ہوئی وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم