سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 195
سيرة النبي الله 195 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی اطاعت بوجہ اسوہ اور نمونہ کے ہے حضرت مصلح موعود 17 اگست 1923 ء کے خطبہ جمعہ میں ایک لطیف نکتہ یوں بیان فرماتے ہیں :۔خدا تعالیٰ سے بندہ کا براہ راست تعلق ہوتا ہے حتی کہ رسول کا بھی اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔بعض صوفیا نے لکھا ہے کہ بندہ اور خدا کا ایسا تعلق ہوتا ہے کہ پیر نہیں جانتا اس کے مرید کا خدا سے کیا تعلق ہے اور مرید کو علم نہیں ہوتا کہ اس کے پیر کا خدا سے کتنا تعلق ہے کیونکہ بندہ اور خدا کا تعلق بلا واسطہ ہوتا ہے۔اگر بالواسطہ ہوتا تو پیر کو بتایا جاتا کہ تمہارے فلاں مرید کا خدا سے یہ تعلق ہے اور فلاں کا یہ۔مگر ہر انسان کا تعلق خدا سے براہ راست ہوتا ہے اور جب براہ راست ہوتا ہے تو دین کی سب باتیں ہر ایک بندہ سے تعلق رکھتی ہیں اور ان میں بھی کوئی واسطہ نہیں۔مثلاً یہ نہیں کہ نماز اس لئے پڑھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے بلکہ اس لئے پڑھے کہ خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کہا ہے اور ہم کو بھی کہا ہے۔روزہ اس لئے نہ رکھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے بلکہ اس لئے رکھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی خدا نے کہا ہے اور ہم کو بھی خدا نے کہا ہے۔پس جب رسول بھی وسیلہ نہیں ہوتے تو اور کوئی وجود تو ہو ہی نہیں سکتا۔رسولوں سے اتر کر خلفاء اور مجددین ہوتے ہیں۔یہ کس طرح وسیلہ ہو سکتے ہیں۔پس در حقیقت