سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 186

سيرة النبي عالم 186 جلد 2 معذوروں، مجبوروں کی حوصلہ افزائی کرنے والا نبی تحریک شدھی ملکانہ کے سلسلہ میں ہدایات کے دوران حضرت مصلح موعود نے اُن واقعات کا بھی ذکر فرمایا جن میں رسول کریم ﷺ نے معذوروں اور مجبوروں کی ,, الله حوصلہ افزائی فرمائی۔چنانچہ فرمایا:۔رسول کریم ﷺ ایک دفعہ جب جنگ کو جا رہے تھے تو فرمایا سنو ! کسی وادی میں سے تم نہیں گزرتے کہ کچھ ایسے لوگ ہیں جو مدینہ میں رہتے ہوئے تمہارے ساتھ نہیں ہوتے۔کسی لڑائی میں تم شامل نہیں ہوتے کہ وہ اس میں شریک نہیں ہوتے اور تمہارے لئے کوئی اجر نہیں جو اس میں ان کا حصہ نہ ہو۔صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ کس طرح؟ فرمایا اس لئے کہ وہ لوگ عذر اور مجبوری کی وجہ سے پیچھے رہتے ہیں ورنہ ان کے دل تمہارے ہی ساتھ ہوتے ہیں 1۔پس وہ جو کسی عذر کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں وہ ان کے ساتھ شریک ہو سکتے ہیں جو میدان میں کام کرنے کے لئے گئے جبکہ ان کے دل ان کے ساتھ شریک ہوں۔وہ ان کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں جبکہ دعائیں 66 ان کے ساتھ پھر رہی ہوں۔“ پھر آپ فرماتے ہیں :۔ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے داماد کو جنگ پر جانے سے اس لئے روک دیا کہ آپ کی بیٹی بیمار تھی اور اس کی خبر گیری ضروری تھی۔یہ بات اس کو شاق گزری تو آپ نے فرمایا تم بھی ثواب میں ایسے ہی شریک ہو جیسے جنگ پر جانے والے 2۔گو یہ دنیاوی کام تھا جس کی وجہ سے اسے پیچھے رہنا