سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 180
سيرة النبي الله 180 جلد 2 رسول کریم عملہ کا توکل علی اللہ حضرت مصلح موعود نے 28 دسمبر 1922 ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے آخری روز جو خطاب فرمایا وہ نجات کے نام سے شائع شدہ ہے۔اس میں آپ رسول کریم کے توکل علی اللہ کے حوالے سے فرماتے ہیں :۔رسول کریم ﷺ کے متعلق ہی دیکھ لو کفا ر آپ کا کھوج لگاتے لگاتے غار حرا تک پہنچ گئے اور وہاں جا کر کھوجی نے کہہ دیا کہ یا تو وہ آسمان پر چلا گیا ہے اور یا یہیں ہے۔ان میں کھوجی کی بات کا بڑا لحاظ کیا جاتا تھا اس لئے رسول کریم ﷺ کی جان اُس وقت سخت خطرہ میں تھی مگر رسول کریم عملے کو ذرہ بھی گھبراہٹ نہ ہوئی۔آپ نے باوجود اس کے کہ آپ کی جان کفار کو اصل مطلوب تھی اور ابوبکر کو صرف اس لئے تلاش کرتے تھے کہ وہ آپ کی مدد کرتے تھے آپ نے ابوبکر کو تسلی دینی شروع کی اور کہا کہ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا 1 ڈرو نہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اسی طرح کل ہی میں نے سنایا تھا آپ سوئے ہوئے تھے کہ ایک کافر نے آپ کی تلوار اٹھالی اور آپ کو قتل کرنا چاہا لیکن آپ ذرہ بھی نہ گھبرائے اور اس کے سوال پر کہ اب آپ کو کون بچا سکتا ہے؟ نہایت تسلی سے جواب دیا کہ اللہ 2۔اس غیر معمولی حالت اطمینان کو دیکھ کر اس کا فر پر اس قدر دہشت طاری ہوئی کہ اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی 3۔“ ( نجات صفحہ 67 ، 68 ناشر الشرکۃ الاسلام لمیٹڈ ربوہ ) 1: السيرة الحلبية جلد 2 صفحه 206 مطبوعه بيروت 2012 الطبعة الاولى