سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 173
سيرة النبي الله 173 جلد 2 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کا تقاضا حضرت مصلح موعود کتاب ”دعوۃ الا میر میں امت محمدیہ میں سے رسول کریم ہے کی اتباع سے کسی کا نبوت پانا حضور ﷺ کی قوت قدسیہ کی دلیل ہے کی بابت تحریر وو فرماتے ہیں:۔چوتھا اعتراض ہم پر یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد سلسلہ وحی اور سلسلہ نبوت کو جاری سمجھتے ہیں۔یہ اعتراض بھی یا تو قلت تذبر کا نتیجہ ہے یا عداوت و دشمنی کا۔اصل بات یہ ہے کہ ہمیں تو الفاظ سے کوئی تعلق نہیں جس بات میں خدا اور اس کے رسول کی عزت ہو ہمیں تو وہی پسند ہے۔ہم کبھی ایک منٹ کے لئے بھی اس امر کو جائز نہیں سمجھتے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص آئے جو آپ کی رسالت کو ختم کر دے اور نیا کلمہ اور نیا قبلہ بنائے اور نئی شریعت اپنے ساتھ لائے یا شریعت کا کوئی حکم بدل دے یا جو لوگوں کو رسول کریم ﷺ کی اطاعت سے نکال کر اپنی اطاعت میں لے آئے یا آپ رسول کریم ﷺ کی اطاعت سے باہر ہو یا کچھ بھی فیض اس کو رسول کریم ع کے توسط کے بغیر ملا ہو۔اگر ایسا کوئی آدمی آئے تو ہمارے نزدیک اسلام باطل ہو جاتا ہے اور محمد رسول اللہ علیہ سے اللہ تعالیٰ کے جو وعدے تھے جھوٹے ہو جاتے ہیں۔لیکن ہم اس امر کو بھی کبھی پسند نہیں کر سکتے کہ رسول کریم ﷺ کے وجود کوایسا سمجھا جائے کہ گویا آپ نے تمام فیوض الہی کو روک دیا ہے اور آپ بجائے دنیا کی ترقی میں محمد ہونے کے اس کے راستہ میں روک بن گئے ہیں اور گویا نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ آپ بجائے دنیا کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کے اسے وصول إِلَی الله صلى الله