سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 166
سيرة النبي الله 166 جلد 2 زندہ ہیں تو آنحضرت ﷺ کی صداقت اور آپ کے علم پر حرف آتا ہے۔کیونکہ آپ تو ان کو وفات یافتہ قرار دیتے ہیں۔رسول کریم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حضرت فاطمہ سے اس مرض میں جس میں آپ فوت ہوئے فرمایا کہ اِنَّ جِبُرِیلَ كَانَ يُعَارِضُنِي الْقُرْآنَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً وَ إِنَّهُ عَارَضَنِى بِالْقُرْآنِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ وَ أَخَبَرَنِي أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَّبِيٍّ إِلَّا عَاشَ نِصْفَ الَّذِي قَبْلَهُ وَ اَخْبَرَنِى اَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِينَ وَ مِائَةَ سَنَةٍ وَلَا أَرَانِيُّ إِلَّا ذَاهِبًا عَلَى رَأسِ السِّيِّينَ 5 یعنی جبرائیل ہر سال ایک دفعہ مجھے قرآن سناتے تھے مگر اس دفعہ دو دفعہ سنایا ہے اور مجھے انہوں نے خبر دی ہے کہ کوئی نبی نہیں گزرا کہ جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی نہ ہوئی ہو اور یہ بھی انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ عیسی بن مریم ایک سو بیس سال کی عمر تک زندہ رہے تھے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہو گی۔اس روایت کا مضمون الہامی ہے کیونکہ اس میں رسول کریم ﷺ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں بیان فرماتے بلکہ جبرائیل علیہ السلام کی بتائی ہوئی بات بتاتے ہیں جو یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال کی تھی۔پس لوگوں کا یہ خیال کہ آپ بتیس تینتیس سال کی عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے تھے غلط ہوا کیونکہ اگر حضرت مسیح اس عمر میں آسمان پر اٹھائے گئے تھے تو آپ کی عمر بجائے ایک سو بیس سال کے رسول کریم ﷺ کے زمانے تک قریباً چھ سو سال کی بنتی ہے اور اس صورت میں چاہئے تھا کہ رسول کریم کم سے کم تین سو سال تک عمر پاتے مگر آنحضرت ﷺ کا تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہو جانا اور الہاماً آپ کو بتایا جانا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہو گئے ثابت کرتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی اور آسمان پر آپ کا بیٹھا ہونا رسول کریم ﷺ کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے اور آپ کے الہامات اسے رد کرتے ہیں۔اور جب امر واقعہ یہ ہے تو ہم لوگ کسی کے کہنے سے کس طرح صلى اللهم عروسة