سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 151
سيرة النبي عل الله 151 جلد 2 صلى الله تھے مگر انہوں نے بھی معنے بتائے اور چلے گئے۔لیکن کیا میں اس آیت کے معنے نہیں جانتا تھا؟ اتنے میں حضرت نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور آپ نے میرا چہرہ دیکھ کر فرمایا ابو ہریرہ! تم بھوکے ہو۔آپ کے پاس دودھ کا پیالہ تھا آپ نے فرمایا دوسرے غرباء کو بھی جمع کر لو اور ہم سب سات تھے۔آپ نے فرمایا پہلے اُن کو پلاؤ۔میں ڈرا کہ یہ دودھ ختم نہ ہو جائے مگر ان سب نے پیا اور قسم ہے خدا کی پیالہ اسی طرح بھرا ہوا تھا۔پھر مجھے دیا۔میں نے خوب سیر ہوکر پیا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا اور پیو۔میں نے پیا۔آپ نے فرمایا اور پیو۔میں نے اور پیا اور یہاں تک میں نے پیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکل جائے گا1۔پھر بعض اوقات میری فاقہ سے یہ حالت ہوتی تھی کہ میں بیہوش ہو کر گر جاتا تھا۔لوگ سمجھتے تھے کہ مجھے مرگی ہوگئی ہے اور عرب میں قاعدہ تھا کہ مرگی والے کو جوتے مارتے تھے کہ اس سے ہوش آ جائے۔لوگ یہ نہ سمجھتے تھے کہ بھوک کی وجہ سے میرا یہ حال ہوا ہے اس لئے مجھے مارتے تھے۔یا تو میری یہ حالت تھی یا اب یہ حال ہے کہ کسریٰ جو آدھی دنیا کا بادشاہ تھا اس کے خاص درباری رومال میں میں تھوکتا ہوں۔(الفضل 8 جون 1922ء) صلى الله 66 1:بخاری کتاب الرقاق باب كيف كان عيش النبي علم و اصحابه صفحه 1120 حدیث نمبر 6452 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 2:بخارى كتاب الاعتصام بالكتاب باب ما ذكر النبي الا الله صفحه 1261 حدیث نمبر 7324 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية