سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 150
سيرة النبي الله 150 جلد 2 رسول کریم ﷺ کا حضرت ابو ہریرہ سے پیار اور ایک معجزہ حضرت مصلح موعود 29 مئی 1922 ء کو قادیان میں عید الفطر کے خطبہ میں فرماتے ہیں :۔حضرت ابو ہریرہ کا واقعہ ہے کہ وہ ایک جگہ کے گورنر تھے ان کے پاس کسری کا در باری رومال تھا کھانسی جو آئی تو اس رومال میں تھوکا اور کہا واہ واہ ! ابو ہریرہ کسری کے رومال میں تھوکتا ہے۔لوگوں نے پوچھا یہ کیا بات ہے؟ حضرت ابو ہریرہ نے کہا میں رسول کریم ﷺ کی باتیں سننے کے لئے مسجد نبوی میں پڑا رہتا تھا اور میں کسی وقت بھی مسجد سے دور جانا اس لئے پسند نہ کرتا تھا کہ شاید کسی وقت رسول کریم آئیں اور میں نہ ہوں اور کوئی بات سننے سے رہ جائے۔اس حال میں بعض اوقات یہ حالت ہو جاتی کہ بھوک کے مارے میرے منہ سے بات نہیں نکل سکتی تھی اور بھوک میں ہی سات سات وقت گزر جاتے۔چونکہ صحابہ سوال نہیں کرتے تھے اس لئے حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں بھوک سے بیتاب ہو گیا اور اتنے میں حضرت عمر گزرے میں نے اس سے آیت صدقہ کے معنے پوچھے۔انہوں نے بتائے اور چلے گئے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کیا میں اس آیت کے معنے نہیں جانتا تھا؟ میرا تو یہ مطلب تھا کہ وہ میری حالت دیکھیں اور کھانے کے لئے دیں۔پھر حضرت ابوبکر آئے۔میں نے ان سے بھی اسی آیت کے معنے پوچھے۔وہ بڑے صدقہ کرنے والے