سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 149

سيرة النبي الله 149 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی دعا کی کیفیت 19 مئی 1922 ء کو حضرت مصلح موعود رمضان المبارک کے تناظر میں الله رسول کریم ﷺ کی دعا کی کیفیات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔بہت ہیں جو دعا کرتے ہیں مگر ان کی آنکھیں، ان کا دل، ان کا دماغ، ان کا سینہ دعا کا مؤید نہیں ہوتا۔ان کی آنکھیں پر نم نہیں ہوتیں۔ان کا دل پکھل نہیں رہا ہوتا۔ان کا دماغ یکسو ہو کر خدا کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ان کا سینہ جوش سے اہل نہیں رہا ہوتا۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی دعا اسی طرح ہوا میں اڑ جاتی ہے جس طرح گرد اڑ جاتی ہے۔رسول کریم ﷺ سے زیادہ آزاد اور آپ سے بڑھ کر زیادہ خر کون ہو گا۔مگر آپ کی نسبت آتا ہے کہ آپ جب دعا کرتے تھے تو بعض اوقات آپ کے سینہ سے اس طرح آواز نکل رہی ہوتی تھی جس طرح کہ ہنڈیا اہل رہی ہے 1 اور اس قدر روتے تھے کہ ریش مبارک تر ہو جاتی تھی۔مگر بہت لوگ ہیں جو اپنی عادتوں کے مطابق خدا تعالیٰ سے بھی تکبر کرتے ہیں اور دعاؤں میں رونا نا پسند کرتے ہیں۔“ ( الفضل 22 مئی 1922ء ) 1 شمائل الترمذى باب ماجاء فى بكاء رسول الله ل اللہ صفحہ 27 مطبوعہ کراچی 1380 ھ لا