سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 147
سيرة النبي الله 147 جلد 2 تربیت اولا د سے متعلق رسول کریم علیہ کا اسوہ حضرت مصلح موعود نے تربیت اولاد سے متعلق رسول کریم ﷺ کا اسوہ بیان کرتے ہوئے ایک دوست کو تحریر فرمایا:۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فرماتا ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا اپنے آپ کو بھی اور اپنے اہل و عیال کو بھی دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔اور فرماتا ہے وَأمُرُ أَهْلَكَ بِالصَّلوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ے اپنے اہل کو نماز کا حکم دے اور اس پر اصرار کر۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ 3 - تم میں سے ہر ایک شخص ایک چرواہے کی حیثیت رکھتا ہے اور اس سے ان لوگوں کی روحانی تربیت کے متعلق سوال کیا جائے گا جو اس کے نیچے رکھے گئے تھے۔جس طرح کہ مالک اپنے چرواہے سے جانوروں کے متعلق دریافت کرتا ہے کہ اس نے ان کو کس حالت میں رکھا۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ہے کے ساتھ آپ کے نواسہ کھانا کھانے لگے تو آپ نے ان کو باوجود چھوٹی عمر کے نصیحت کی کہ كُلُّ بِيَمِينِكَ وَمِمَّا يَلِيُكَهِ دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔اور ایک دفعہ زکوۃ کی ایک کھجور آب آپ کے نواسہ نے منہ میں ڈال لی تو آپ نے منہ میں انگلی ڈال کر زور سے کھینچ کر نکال لی اور فرمایا آل محمد پر صدقہ حرام کیا گیا ہے 5۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ بچہ کودینی امور پر کار بند کرنے کے لئے اگر سختی بھی کی جائے تو مناسب ہے۔“ 1: التحريم : 7 ( الفضل 13 اپریل 1922ء)