سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 146

سيرة النبي عالم 146 جلد 2 رسول کریم کا توکل الله حضرت مصلح موعود 24 فروری 1922 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والوں کی مدد ایسے راہ سے ہوتی ہے کہ جس کا علم بھی نہیں ہوتا۔رسول کریم ﷺ ایک جنگل میں تھے۔صحابہؓ آپ کے اردگرد رہا کرتے تھے، آپ سے جدا نہ ہوتے تھے مگر اس دفعہ آپ جنگل میں دور رہ گئے۔ایک درخت کے نیچے سو گئے۔تلوار درخت سے لٹکا دی۔اتنے میں ایک کافر پہنچا۔آپ ہی کی تلوار بے نیام کر کے آپ کو اٹھایا اور کہا کہ اب آپ کو کون بچائے گا ؟ آپ نے فرمایا کہ اللہ بچائے گا۔اسی جملہ نے اس پر ایسا اثر کیا اور ایک بجلی کی روسی دوڑ گئی جس سے تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی 1 آپ نے اٹھا کر کہا کہ اب تجھے کون بچائے گا ؟ اس نے کہا کہ مجھے کوئی بچانے والا نہیں۔اگر وہ مومن ہوتا تو رسول کریم ﷺ سے سبق لیتا مگر اس نے کہا آپ ہی رحم کریں۔آپ نے اس کو چھوڑ دیا 2۔پس خدا کی قدرت وسیع ہے اس پر بھروسہ کرنے والا ضائع نہیں ہوتا۔محمد ﷺ وطن سے نکلے۔بے وطن ہوئے۔مکہ والے آپ کو نکال کر اپنی کامیابی پر بہت خوش ہوئے لیکن مدینہ والوں کے دل آپ کی طرف خدا نے مائل کر دیئے اور آٹھ سال میں آپ کے دشمن آپ کے رحم کے محتاج ہوئے۔“ صلى الله (الفضل 9 مارچ 1922ء) 1: بخاری کتاب المغازی باب غزوة ذات الرقاع صفحه 700 حدیث نمبر 4135 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 2 فتح البارى كتاب المغازى باب غَزْوَة ذات الرِّقاع جلد 8 صفحہ 432 حاشیہ مطبوعہ مصر 1959ء