سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 114

سيرة النبي الله 114 جلد 2 و, رسول کریم ﷺ پر اعتراض کا خطرناک نتیجہ حضرت مصلح موعود 9 دسمبر 1921 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم یہ ایک دفعہ مال تقسیم کر رہے تھے کہ کسی کو جوش آیا کہ آپ نے صلى الله الله فلاں کو نہیں دیا۔عرض کی کہ فلاں کو کچھ نہیں ملا۔رسول کریم ﷺ نے کوئی توجہ نہ کی۔پھر اس نے کہا، پھر آپ نے توجہ نہ کی۔پھر کبھی رسول کریم ﷺ مال تقسیم کرتے وقت ایسے شخص کو دے دیتے جو کمزور ایمان والا ہوتا۔فتح مکہ کے بعد جو مال آئے وہ آپ نے مکہ والوں کو دے دیئے حالانکہ جنگ کر کے خون بہانے والے جو تھے ان کو نہ دیئے۔اس موقع پر ایک کمزور نے کہہ بھی دیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال اوروں کو دے دیا گیا ہے۔اس پر رسول کریم ﷺ نے ان لوگوں کو بلوایا اور کہا انصار! تم کہہ سکتے ہو کہ جب محمد ( ﷺ ) اکیلا تھا ، اس کی قوم نے اس کو رد کر دیا تھا اُس وقت ہم اس کو لائے اور جب کوئی اس کی مدد نہ کرتا تھا ہم نے اس کی مدد کی ، ہم نے اس کے لئے خون بہائے۔لیکن جب لوٹ کا مال آیا تو اس نے اپنے ہم قوموں کو دے دیا۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا اس بات کا اور پہلو بھی ہے اور اگر چا ہو تو تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ محمد (ﷺ) ہمارے پاس آیا، ہمارے گھر آیا اور جب اس کا وطن فتح ہوا تو اس کی قوم والے تو اونٹ بکریاں لے گئے اور ہم محمد (ﷺ) کو ساتھ لے آئے۔اب جو چا ہو کہو۔میرے خیال میں اس سے زیادہ زجر کوئی نہیں ہو سکتی تھی۔یہ کافر اور فاسق نام رکھ دینے سے بھی زیادہ سخت تھی کہ تم اونٹ لے جانا چاہتے ہو یامحمد (ﷺ) کو۔